صحیح بخاری حدیث ۷۱۹۶ - ہرقل کا سوال اور ترجمان
ہرقل اور ابوسفیان کا واقعہ: سچائی کی جانچ کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۱۹۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۹۶
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ أَخْبَرَهُ ، " أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، ثُمّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ : قُلْ لَهُمْ إِنِّي سَائِلٌ هَذَا فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ لِلتُّرْجُمَانِ : قُلْ لَهُ : إِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَسَيَمْلِكُ مَوْضِعَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ " .
ابوسفیان بن حرب روایت:
ہرقل نے انہیں قریش کی ایک جماعت کے ساتھ بلا بھیجا، پھر اپنے ترجمان سے کہا، ان سے کہو کہ میں ان کے بارے میں پوچھوں گا۔ اگر یہ مجھ سے جھوٹ بات کہے تو اسے جھٹلا دیں۔ پھر پوری حدیث بیان کی اس سے کہو کہ اگر تمہاری باتیں صحیح ہیں تو وہ شخص اس ملک کا بھی ہو جائے گا جو اس وقت میرے قدموں کے نیچے ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ہرقل نے ابوسفیان بن حرب کو قریش کی جماعت کے ساتھ بلایا۔ اس نے اپنے ترجمان سے کہا کہ ان لوگوں سے کہو میں اس شخص کے بارے میں سوال کروں گا، اگر یہ مجھ سے جھوٹ کہے تو اسے جھٹلا دیں۔ پھر حدیث کا حصہ بیان ہوا کہ اگر تمہاری باتیں صحیح ہیں تو وہ شخص اس ملک کا بھی مالک ہو جائے گا جو اس وقت میرے قدموں کے نیچے ہے۔ اس روایت میں ترجمان، سوال جواب، سچائی کی جانچ، اور خبر کی تصدیق کا مضمون ہے۔ بات کا وزن اسی وقت بنتا ہے جب سننے والا صرف دعویٰ نہ لے بلکہ گواہوں کی موجودگی میں سوال کرے۔ حدیث کا بیان صرف اسی واقعے تک محدود ہے، اس لیے اس میں ہمیں تحقیق، سچائی اور ترجمانی کی ذمہ داری کا صاف سبق ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اہم خبر سننے سے پہلے اس کی جانچ کی جا سکتی ہے۔
- ترجمان کے ذریعے بات سمجھنا اور سمجھانا درست طریقہ ہے۔
- ہرقل نے جھوٹ کی صورت میں دوسروں سے تصدیق کا طریقہ رکھا۔
- سچائی کے معاملے میں حاضر لوگوں کی گواہی اہم ہو سکتی ہے۔
