صحیح بخاری حدیث ۷۲۰ - شہادت کی فضیلت اور شہید کی اقسام
شہید کی اقسام: ڈوبنے، طاعون، پیٹ کی بیماری اور دب کر مرنے والوں کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۲۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۰
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشُّهَدَاءُ الْغَرِقُ وَالْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْهَدِمُ .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ڈوبنے والے، پیٹ کی بیماری میں مرنے والے، طاعون میں مرنے والے اور دب کر مرنے والے شہید ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۷۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع شہادت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مختصر مگر بہت اہم حدیث میں بتایا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں شہید کہا گیا ہے، اگرچہ ان کا انتقال جنگ کے میدان میں نہ ہوا ہو۔ حدیث کے الفاظ کے مطابق ڈوبنے والا، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا، طاعون میں مرنے والا اور دب کر مرنے والا شہید ہے۔ اس سے مسلمان کو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے بعض سخت حالات اور تکلیف دہ موت کو خاص مقام عطا فرماتا ہے۔ اس حدیث میں شہید کی اقسام صاف طور پر بیان ہوئی ہیں، اس لیے اسے پڑھتے وقت بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے جو متن میں آئی ہے۔ شہادت کی حدیث، طاعون سے مرنے والا شہید، ڈوب کر مرنے والا شہید، اور پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید جیسے الفاظ اسی مضمون کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس حدیث میں چار طرح کے مرنے والوں کو شہید کہا گیا ہے۔
- ڈوب کر مرنے والے کے بارے میں حدیث میں شہید کا لفظ آیا ہے۔
- طاعون اور پیٹ کی بیماری سے مرنے والے کے لیے بھی شہادت کا ذکر ہے۔
- دب کر مرنے والے کو بھی اس حدیث میں شہیدوں میں شمار کیا گیا ہے۔
