صحیح بخاری حدیث ۷۲۱ - نماز کے لیے جلدی آنے کی فضیلت
نماز کی جماعت اور پہلی صف کی فضیلت
صحیح بخاری : ۷۲۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۱
وَقَالَ : وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ لَاسْتَهَمُوا " .
´فرمایا کہ` اگر لوگ جان لیں جو ثواب نماز کے لیے جلدی آنے میں ہے تو ایک دوسرے سے آگے بڑھیں اور اگر عشاء اور صبح کی نماز کے ثواب کو جان لیں تو اس کے لیے ضرور آئیں۔ خواہ سرین کے بل آنا پڑے اور اگر پہلی صف کے ثواب کو جان لیں تو اس کے لیے قرعہ اندازی کریں۔
صحیح بخاری حدیث ۷۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع نماز کی جماعت، نماز کے لیے جلدی آنا، عشاء اور فجر کی نماز، اور پہلی صف کی فضیلت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اگر لوگ ان کاموں کے ثواب کو جان لیں تو وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ یہاں بات صرف دعوے کی نہیں، عمل کی ہے۔ عشاء اور فجر کی نماز کے بارے میں فرمایا گیا کہ لوگ ان کے لیے ضرور آئیں، چاہے سرین کے بل آنا پڑے۔ اسی طرح پہلی صف کے لیے قرعہ اندازی تک کی بات آئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں وقت پر پہنچنا، جماعت کا اہتمام کرنا اور صف اول کی رغبت ایک مسلمان کی نماز سے محبت کو ظاہر کرتی ہے۔ حدیث ثواب کی مقدار نہیں بتاتی، مگر رغبت بہت مضبوط انداز میں دلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کے لیے جلدی آنا ایک پسندیدہ اور قابل رغبت عمل ہے۔
- عشاء اور فجر کی جماعت کے لیے خاص توجہ کی ترغیب دی گئی ہے۔
- پہلی صف میں شامل ہونے کی خواہش اچھی دینی رغبت ہے۔
