صحیح بخاری حدیث ۷۲۰۲ - جتنی طاقت ہو اتنی اطاعت
جتنی طاقت ہو: سمع و طاعت میں استطاعت کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۲۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۰۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ، يَقُولُ لَنَا : فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کرتے تو آپ ہم سے فرماتے کہ جتنی تمہیں طاقت ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۷۲۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کرتے تو آپ ہم سے فرماتے: جتنی تمہیں طاقت ہو۔ اس مختصر روایت میں بیعت، سمع و طاعت، استطاعت، اور آسانی کا بہت صاف پیغام ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اطاعت کو انسان کی طاقت کے دائرے میں بیان فرمایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عہد سنجیدہ ہے، مگر انسان کی قدرت اور وسعت بھی دیکھی گئی ہے۔ حدیث کا اصل مضمون صرف اتنا ہے کہ بیعت کے وقت اطاعت کا عہد لیا جاتا تھا اور ساتھ یہ بات فرمائی جاتی تھی کہ جتنی طاقت ہو۔ اس لیے اس حدیث کو طاقت کے مطابق ذمہ داری کی حدیث بھی کہا جا سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اطاعت کا عہد انسان کی طاقت کے دائرے میں ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت میں استطاعت کا ذکر فرمایا۔
- دینی ذمہ داری کو سنجیدگی کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
- انسان سے وہی مطالبہ کیا جاتا ہے جس کی اسے طاقت ہو۔
