صحیح بخاری حدیث ۷۲۰۱ - خندق میں مہاجرین و انصار کی دعا
خندق کی حدیث: آخرت کی خیر اور مہاجرین و انصار کی بیعت
صحیح بخاری : ۷۲۰۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۰۱
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ وَالْمُهَاجِرُونَ ، وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ ، فَأَجَابُوا نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدَا .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سردی میں صبح کے وقت باہر نکلے اور مہاجرین اور انصار خندق کھود رہے تھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! خیر تو آخرت ہی کی خیر ہے۔ پس انصار و مہاجرین کی مغفرت کر دے۔“ اس کا جواب لوگوں نے دیا کہ ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر بیعت کی ہے ہمیشہ کے لیے جب تک وہ زندہ ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۷۲۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سردی کی صبح باہر نکلے، جبکہ مہاجرین اور انصار خندق کھود رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! خیر تو آخرت ہی کی خیر ہے، پس انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔ جواب میں لوگوں نے کہا کہ ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر بیعت کی ہے، ہمیشہ کے لیے جب تک وہ زندہ ہیں۔ اس حدیث میں خندق، مہاجرین، انصار، جہاد پر بیعت، محنت، اور آخرت کی خیر کا ذکر ہے۔ بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ سخت سردی اور محنت کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخرت کی خیر اور مغفرت کی دعا فرمائی، اور صحابہ نے اپنے عہد کا اظہار کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشکل کام کے وقت آخرت کی خیر کو یاد رکھنا چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔
- صحابہ نے جہاد پر اپنی بیعت کا اظہار کیا۔
- دینی کام میں محنت اور عہد دونوں ساتھ چلتے ہیں۔
