صحیح بخاری حدیث ۷۲۰۰ - حق بات کہنا اور اہل امر سے نزاع نہ کرنا
حق بات کہنے کی حدیث: جہاں ہوں وہاں حق پر قائم رہیں
صحیح بخاری : ۷۲۰۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۰۰
وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ ، وَأَنْ نَقُومَ أَوْ نَقُولَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا ، لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ " .
اور اس شرط پر کہ جو شخص سرداری کے لائق ہو گا (مثلاً قریش میں سے ہو اور شرع پر قائم ہو) اس کی سرداری قبول کر لیں گے اس سے جھگڑا نہ کریں اور یہ کہ ہم حق کو لے کر کھڑے ہوں گے یا حق بات کہیں گے جہاں بھی ہوں اور اللہ کے راستے میں ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کریں گے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۲۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیعت کی شرائط کا بیان ہے۔ اس میں یہ بات آئی کہ جو شخص سرداری کے لائق ہو، اس کی سرداری قبول کی جائے گی اور اس سے جھگڑا نہیں کیا جائے گا۔ پھر یہ عہد بھی ہے کہ ہم حق کو لے کر کھڑے ہوں گے یا حق بات کہیں گے جہاں بھی ہوں، اور اللہ کے راستے میں ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔ اس حدیث کا اصل مضمون حق گوئی، بیعت، اہل امر، اور دینی جرأت ہے۔ یہاں حق کہنا جذباتی نعرہ نہیں، بلکہ اللہ کے لیے سچ پر قائم رہنے کا عہد ہے۔ اسی طرح سرداری کے معاملے میں غیر ضروری جھگڑے سے بچنے کی بات بھی واضح ہے۔ یہ حدیث ذمہ داری، نظم، اور حق بات کے درمیان توازن سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اہل امر سے بلا وجہ نزاع نہ کرنے کا عہد کیا گیا۔
- حق بات جہاں ہو، وہاں کہنے کا عہد کیا گیا۔
- اللہ کے راستے میں ملامت سے نہ ڈرنے کی تعلیم ہے۔
- بیعت میں نظم اور حق گوئی دونوں شامل ہیں۔
