صحیح بخاری حدیث ۷۰۵۶ - خوشی و تنگی میں اطاعت کا عہد
بیعت اور اطاعت: خوشی، تنگی اور حق تلفی میں نبوی عہد
صحیح بخاری : ۷۰۵۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۵۶
فَقَالَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا : أَنْ بَايَعَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا ، وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا ، وَأَثَرَةً عَلَيْنَا ، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ إِلَّا أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللَّهِ فِيهِ بُرْهَانٌ " .
عبادہ بن صامت روایت:
جن باتوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے عہد لیا تھا ان میں یہ بھی تھا کہ خوشی و ناگواری، تنگی اور کشادگی اور اپنی حق تلفی میں بھی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور یہ بھی کہ حکمرانوں کے ساتھ حکومت کے بارے میں اس وقت تک جھگڑا نہ کریں جب تک ان کو اعلانیہ کفر کرتے نہ دیکھ لیں۔ اگر وہ اعلانیہ کفر کریں تو تم کو اللہ کے پاس سے دلیل مل جائے گی۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن باتوں پر بیعت لی، ان میں سننا اور اطاعت کرنا شامل تھا؛ خوشی میں بھی، ناگواری میں بھی، تنگی میں بھی، کشادگی میں بھی، اور اپنی حق تلفی کے وقت بھی۔ اس کے ساتھ یہ عہد بھی لیا گیا کہ حکمرانوں سے حکومت کے معاملے میں جھگڑا نہ کیا جائے، مگر اس وقت جب اعلانیہ کفر دیکھا جائے اور اس پر اللہ کی طرف سے واضح دلیل موجود ہو۔ یہ حدیث اطاعت، نظم، صبر اور شرعی حد کی بات کرتی ہے۔ اس میں جذباتی بغاوت یا ہر ناپسند بات پر جھگڑے کی اجازت نہیں، بلکہ معاملے کو واضح دلیل اور کھلے کفر کے ساتھ خاص کیا گیا ہے۔ آسان الفاظ میں یہ حدیث مسلمان کو ذمہ دارانہ رویہ سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اطاعت صرف آسان وقت میں نہیں، مشکل وقت میں بھی آزمائش بنتی ہے۔
- حق تلفی کے باوجود نظم توڑنے سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
- حکومت کے معاملے میں جھگڑا صرف واضح شرعی دلیل کے ساتھ خاص کیا گیا ہے۔
- بیعت ایک سنجیدہ دینی عہد ہے۔
