صحیح بخاری حدیث ۷۱۴۳ - امیر کی ناپسند بات پر صبر
امیر کی ناپسند بات اور جماعت سے جڑے رہنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۱۴۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۴۳
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنِ الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْوِيهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فَكَرِهَهُ فَلْيَصْبِرْ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَيَمُوتُ ، إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً " .
عبداللہ بن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے اپنے امیر میں کوئی برا کام دیکھا تو اسے صبر کرنا چاہئے کیونکہ کوئی اگر جماعت سے ایک بالشت بھی جدا ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۱۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے امیر سے متعلق ایک مشکل صورت بیان فرمائی۔ فرمایا کہ جس نے اپنے امیر میں کوئی ایسی بات دیکھی جو اسے ناپسند ہو، تو اسے صبر کرنا چاہیے۔ پھر فرمایا کہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی جدا ہو اور اسی حال میں مر جائے، وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔ اس روایت میں دو بنیادی باتیں ہیں: امیر کی ناپسند بات پر فوری ٹوٹ پھوٹ کے بجائے صبر، اور جماعت سے الگ ہونے کے خطرے سے بچنا۔ حدیث کا متن یہی بتاتا ہے، اس لیے اس میں اپنی طرف سے سیاسی تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے۔ امیر پر صبر، جماعت سے جدا ہونا، اور جاہلیت کی موت والی حدیث جیسے سرچ الفاظ اسی روایت سے متعلق ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امیر کی ناپسند بات دیکھ کر صبر کی ہدایت دی گئی ہے۔
- جماعت سے جدا ہونے کو سخت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
- حدیث کا مقصد نظم اور جماعت سے وابستگی کو محفوظ رکھنا ہے۔
