صحیح بخاری حدیث ۷۱۴۲ - امیر کی بات سنو اور اطاعت کرو

امیر کی اطاعت: سنو اور اطاعت کرو

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۴۲

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا ، وَإِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ " .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سنو اور اطاعت کرو، خواہ تم پر کسی ایسے حبشی غلام کو ہی عامل بنایا جائے جس کا سر منقیٰ کی طرح چھوٹا ہو۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۱۴۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع امیر کی اطاعت ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ سنو اور اطاعت کرو، خواہ تم پر کسی ایسے حبشی غلام کو ہی عامل بنایا جائے جس کا سر منقیٰ کی طرح ہو۔ حدیث کے الفاظ میں زور اس بات پر ہے کہ ذمہ داری پر مقرر شخص کی ظاہری حیثیت یا شکل کو بنیاد بنا کر نظم کو نہ توڑا جائے۔ یہاں اصل حکم سننے اور اطاعت کرنے کا ہے۔ اس روایت کو دوسرے نصوص کے ساتھ سمجھنے میں علمائے کرام کے مطابق یہ اصول بھی سامنے رکھا جاتا ہے کہ معصیت کے حکم میں اطاعت نہیں ہوتی، مگر اس خاص حدیث کے اندر بنیادی پیغام نظم اور اطاعت ہے۔ امیر کی اطاعت، سنو اور اطاعت کرو، اور حبشی غلام والی حدیث جیسے سرچ الفاظ اسی مضمون سے جڑے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • امیر کی بات سننے اور اطاعت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
  • ظاہری حیثیت کو اطاعت سے انکار کی وجہ نہیں بنایا گیا۔
  • حدیث کا اصل پیغام اجتماعی نظم کو باقی رکھنا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں