صحیح بخاری حدیث ۷۱۴۱ - مال حق میں خرچ اور حکمت کی تعلیم

رشک کس پر جائز ہے؟ مال اور حکمت والی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۴۱

حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْس ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ : رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ ، وَآخَرُ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رشک بس دو آدمیوں پر ہی کیا جانا چاہئے۔ ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور پھر اس نے وہ حق کے راستے میں بےدریغ خرچ کیا اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے حکمت دین کا علم (قرآن و حدیث کا) دیا ہے وہ اس کے موافق فیصلے کرتا ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۱۴۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں حسد یا رشک کے بارے میں ایک خاص اصول بتایا گیا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ رشک صرف دو آدمیوں پر کیا جانا چاہیے: ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور اس نے اسے حق کے راستے میں خرچ کیا، اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے حکمت دی، وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور اسے سکھاتا بھی ہے۔ یہاں حسد سے مراد نقصان پہنچانے والی جلن نہیں، بلکہ ایسی خواہش ہے کہ انسان بھی خیر کے کام میں آگے بڑھے۔ حدیث کے الفاظ میں دو چیزیں خاص ہیں: مال کا حق میں خرچ ہونا، اور حکمت کے مطابق فیصلہ اور تعلیم۔ لا حسد الا فی اثنتین، مال خرچ کرنے کی حدیث، اور علم سکھانے کی حدیث جیسے سرچ الفاظ اسی روایت سے متعلق ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مال کی فضیلت اس وقت بیان ہوئی جب وہ حق کے راستے میں خرچ ہو۔
  • حکمت کا فائدہ یہ ہے کہ اس کے مطابق فیصلے کیے جائیں۔
  • علم یا حکمت کو دوسروں تک سکھانا بھی حدیث میں ذکر ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں