صحیح بخاری حدیث ۷۰۵۳ - امیر کی ناپسند بات پر صبر
امیر کی ناپسند بات پر صبر اور اطاعت کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۰۵۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۵۳
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنِ الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فَلْيَصْبِرْ ، فَإِنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناپسند بات دیکھے تو صبر کرے (خلیفہ) کی اطاعت سے اگر کوئی بالشت بھر بھی باہر نکلا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۰۵۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناپسند بات دیکھے تو صبر کرے۔ پھر فرمایا کہ جو اطاعت سے بالشت بھر بھی باہر نکلا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی۔ اس حدیث کا اصل موضوع امیر کی اطاعت، صبر اور جماعت سے وابستگی ہے۔ روایت میں ناپسند بات کا ذکر ہے، مگر اس کے جواب میں بے قابو ردعمل نہیں بلکہ صبر کی تعلیم دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ غلط کو اچھا کہا جائے، بلکہ حدیث کے الفاظ کے مطابق مسلمان کو ایسی صورت میں صبر اور نظم کا راستہ اختیار کرنا ہے۔ یہ حدیث خاص طور پر ان حالات میں رہنمائی دیتی ہے جب انسان کو اپنے ذمہ دار یا حاکم میں کوئی بات اچھی نہ لگے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امیر کی ناپسند بات دیکھ کر صبر کا حکم دیا گیا ہے۔
- اطاعت سے نکلنے کو حدیث میں سخت خطرہ بتایا گیا ہے۔
- جماعت اور نظم سے وابستگی کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
- ناپسند حالات میں جذبات کے بجائے صبر اختیار کرنا چاہیے۔
