صحیح بخاری حدیث ۷۰۵۲ - حق تلفی میں صبر اور اللہ سے سوال

حق تلفی اور صبر: اپنا حق اللہ سے مانگنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۵۲

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا ، قَالُوا : فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ " .

عبداللہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ”تم میرے بعد بعض کام ایسے دیکھو گے جو تم کو برے لگیں گے۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس سلسلے میں کیا حکم فرماتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انہیں ان کا حق ادا کرو اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۰۵۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو بتایا کہ آپ کے بعد کچھ ایسے کام دیکھو گے جو تمہیں ناپسند ہوں گے۔ صحابہ نے پوچھا کہ ایسے وقت میں ہمیں کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں ان کا حق ادا کرو اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔ اس حدیث کا اصل موضوع حق تلفی کے وقت صبر اور دین کے دائرے میں رہ کر معاملہ کرنا ہے۔ یہاں روایت میں یہ نہیں کہا گیا کہ ظلم کو اچھا سمجھو، بلکہ یہ بتایا گیا کہ ناپسند امور کے باوجود اپنا فرض ادا کرو اور اللہ سے اپنے حق کی دعا کرو۔ عام فہم انداز میں بات یہ ہے کہ جب حالات دل کو ناگوار لگیں تو انسان جذبات کے بجائے نبوی ہدایت کو سامنے رکھے۔ حکمرانوں کے حقوق، اپنے حقوق اور اللہ پر بھروسہ اس حدیث کے بنیادی نکات ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ناپسند حالات میں بھی اپنا فرض ادا کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
  • اپنا حق اللہ سے مانگنا ایمان اور توکل کا حصہ ہے۔
  • جذباتی ردعمل کے بجائے نبوی رہنمائی اختیار کرنی چاہیے۔
  • حق تلفی کو دیکھ کر صبر اور دعا دونوں اہم ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں