صحیح بخاری حدیث ۷۰۵۱ - حوض کوثر اور سنت پر قائم رہنا

حوض کوثر کی حدیث: سنت چھوڑنے اور تبدیلی سے ڈر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۵۱

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، فَمَنْ وَرَدَهُ شَرِبَ مِنْهُ ، وَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا ، لَيَرِدُ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِي ، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ : فَسَمِعَنِي النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ وَأَنَا أُحَدِّثُهُمْ هَذَا ، فَقَالَ : هَكَذَا سَمِعْتَ سَهْلًا ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَسَمِعْتُهُ يَزِيدُ فِيهِ ، قَالَ : إِنَّهُمْ مِنِّي ، فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا بَدَّلُوا بَعْدَكَ ، فَأَقُولُ : سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي " .

سہل بن سعد روایت:

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ میں حوض کوثر پر تم سے پہلے رہوں گا جو وہاں پہنچے گا تو اس کا پانی پئے گا اور جو اس کا پانی پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔ میرے پاس ایسے لوگ بھی آئیں گے جنہیں میں پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے پھر میرے اور ان کے درمیان پردہ ڈال دیا جائے گا۔ابوحازم نے بیان کیا کہ نعمان بن ابی عیاش نے بھی سنا کہ میں ان سے یہ حدیث بیان کر رہا ہوں تو انہوں نے کہا کہ کیا تو نے سہل رضی اللہ عنہ سے اسی طرح یہ حدیث سنی تھی؟ میں نے کہا کہ ہاں۔ انہوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث اسی طرح سنی تھی۔ابوسعید اس میں اتنا بڑھاتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ مجھ میں سے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت کہا جائے گا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا تبدیلیاں کر دی تھیں؟ میں کہوں گا کہ دوری ہو دوری ہو ان کے لیے جنہوں نے میرے بعد دین میں تبدیلیاں کر دی تھیں۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۰۵۱ کا خلاصہ

یہ روایت بھی حوض کوثر کے بارے میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ حوض پر پہلے سے موجود ہوں گے۔ جو شخص وہاں آئے گا وہ پانی پیے گا، اور جو پانی پی لے گا اسے پھر پیاس نہیں لگے گی۔ پھر کچھ ایسے لوگ آئیں گے جنہیں آپ پہچانیں گے اور وہ آپ کو پہچانیں گے، مگر آپ کے اور ان کے درمیان رکاوٹ ڈال دی جائے گی۔ پھر بتایا جائے گا کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں تبدیلیاں کیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے لیے دوری کے الفاظ فرمائیں گے جنہوں نے آپ کے بعد دین بدل دیا۔ اس حدیث کا مرکزی سبق حوض کوثر کی امید، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق، اور دین میں تبدیلی سے بچنا ہے۔ اس میں کوئی اضافی قصہ نہیں، بلکہ روایت کے الفاظ ہی بنیادی پیغام دے رہے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حوض کوثر تک پہنچنا بڑی سعادت ہے۔
  • دین میں تبدیلی انسان کو سخت محرومی کی طرف لے جا سکتی ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
  • سنت کی پیروی کو معمولی نہ سمجھا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں