صحیح بخاری حدیث ۷۲۱۳ - توحید اور گناہوں سے بچنے کی بیعت

توحید پر بیعت: شرک، چوری اور گناہوں سے بچنے کا عہد

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۱۳

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ح وَقَالَ اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، يَقُولُ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي مَجْلِسٍ : " تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا تَسْرِقُوا ، وَلَا تَزْنُوا ، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ ، وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ ، وَلَا تَعْصُوا فِي مَعْرُوفٍ ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ ، فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ ، فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ ، إِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ ، وَإِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ " ، فَبَايَعْنَاهُ عَلَى ذَلِكَ .

عبادہ بن صامت روایت:

ہم مجلس میں موجود تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھ سے بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے اور اپنی طرف سے گھڑ کر کسی پر بہتان نہیں لگاؤ گے اور نیک کام میں نافرمانی نہیں کرو گے۔پس جو کوئی تم میں سے اس وعدے کو پورا کرے اس کا ثواب اللہ کے یہاں اسے ملے گا اور جو کوئی ان کاموں میں سے کسی برے کام کو کرے گا اس کی سزا اسے دنیا میں ہی مل جائے گی تو یہ اس کے لیے کفارہ ہو گا اور جو کوئی ان میں سے کسی برائی کا کام کرے گا اور اللہ اسے چھپا لے گا تو اس کا معاملہ اللہ کے حوالہ ہے۔ چاہے تو اس کی سزا دے اور چاہے اسے معاف کر دے۔“ چنانچہ ہم نے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ بیعت اقرار کو کہتے ہیں جو خلیفہ اسلام کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کیا جائے یا پھر کسی نیک صالح انسان کے ہاتھ پر ہو۔

صحیح بخاری حدیث ۷۲۱۳ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع توحید اور اخلاقی عہد ہے۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے صحابہ سے بیعت لی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے، چوری نہیں کریں گے، زنا نہیں کریں گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گے، اپنی طرف سے گھڑ کر کسی پر بہتان نہیں لگائیں گے، اور نیک کام میں نافرمانی نہیں کریں گے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ جو اس وعدے کو پورا کرے گا اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ جس سے کوئی غلطی ہو اور دنیا میں سزا مل جائے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے۔ اور جس کی غلطی اللہ چھپا دے، اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ یہ حدیث ایمان، بیعت، توحید اور اخلاقی پاکیزگی کو ایک ساتھ بیان کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • توحید سب سے بنیادی عہد ہے۔
  • چوری، زنا، قتل اولاد اور بہتان سے بچنا بیعت کے اہم نکات میں شامل تھا۔
  • نیک کام میں نافرمانی نہ کرنا بھی اس عہد کا حصہ ہے۔
  • پوشیدہ گناہ کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے؛ چاہے معاف فرمائے یا سزا دے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں