صحیح بخاری حدیث ۷۲۱۴ - عورتوں سے زبانی بیعت

عورتوں کی بیعت: زبانی عہد اور پاکیزہ طریقہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۱۴

حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُبَايِعُ النِّسَاءَ بِالْكَلَامِ بِهَذِهِ الْآيَةِ : لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12 " ، قَالَتْ : وَمَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ إِلَّا امْرَأَةً يَمْلِكُهَا " .

عائشہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے زبانی اس آیت کے احکام کی بیعت لیتے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی آخر آیت تک۔ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کبھی کسی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا، سوا اس عورت کے جو آپ کی لونڈی ہو۔

صحیح بخاری حدیث ۷۲۱۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع عورتوں کی بیعت ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم عورتوں سے کلام کے ذریعے بیعت لیتے تھے، اس آیت کے حکم پر کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، آخر آیت تک۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے صاف بیان کیا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ہاتھ نے کبھی کسی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا، سوائے اس عورت کے جو آپ کی ملکیت میں ہو۔ اس حدیث میں بیعت النساء، زبانی بیعت، سورۃ الممتحنہ کی آیت اور پاکیزہ طرز عمل کا ذکر ہے۔ اس سے یہی بات سامنے آتی ہے کہ عورتوں کی بیعت ہاتھ ملائے بغیر کلام سے لی جاتی تھی۔ حدیث میں جو بیان ہے، اسی حد تک بات رکھی گئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم عورتوں سے زبانی بیعت لیتے تھے۔
  • بیعت کا بنیادی مضمون شرک سے بچنے کے عہد سے شروع ہوتا تھا۔
  • عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیان کے مطابق آپ صلى الله عليه وسلم نے بیعت میں عورتوں کا ہاتھ نہیں چھوا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں