صحیح بخاری حدیث ۴۸۹۱ - عورتوں کی زبانی بیعت
عورتوں کی بیعت کی حدیث: رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا پاکیزہ طریقہ
صحیح بخاری : ۴۸۹۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۹۱
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْتَحِنُ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ بِهَذِهِ الْآيَةِ بِقَوْلِ اللَّهِ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة الممتحنة آية 12 ، قَالَ عُرْوَةُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا الشَّرْطِ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ ، قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ بَايَعْتُكِ " ، كَلَامًا وَلَا وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ فِي الْمُبَايَعَةِ مَا يُبَايِعُهُنَّ إِلَّا بِقَوْلِهِ قَدْ بَايَعْتُكِ عَلَى ذَلِكِ ". تَابَعَهُ يُونُسُ ، وَمَعْمَرٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ رَاشِدٍ : عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وَعَمْرَةَ .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ان مومن عورتوں کا امتحان لیا کرتے تھے جو ہجرت کر کے مدینہ آتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا «يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك» کہ ”اے نبی! جب آپ سے مسلمان عورتیں بیعت کرنے کے لیے آئیں“ ارشاد «غفور رحيم» تک۔عروہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا چنانچہ جو عورت اس شرط (آیت میں مذکور یعنی ایمان وغیرہ) کا اقرار کر لیتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زبانی طور پر فرماتے کہ میں نے تمہاری بیعت قبول کر لی اور ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کسی عورت کا ہاتھ بیعت لیتے وقت کبھی نہیں چھوا صرف آپ ان سے زبانی بیعت لیتے تھے کہ آیت میں مذکورہ باتوں پر قائم رہنا۔اس روایت کی متابعت یونس، معمر اور عبدالرحمٰن بن اسحاق نے زہری سے کی اور اسحاق بن راشد نے زہری سے بیان کیا کہ ان سے عروہ اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے کہا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۹۱ کا خلاصہ
یہ حدیث عورتوں کی بیعت کے طریقے کو صاف بیان کرتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ جب مومن عورتیں ہجرت کر کے آتیں تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سورۃ الممتحنہ کی آیت کے مطابق ان کا امتحان لیتے۔ جو عورت اس شرط کا اقرار کر لیتی، آپ صلى الله عليه وسلم زبانی فرماتے کہ میں نے تمہاری بیعت قبول کر لی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے قسم کے ساتھ بتایا کہ بیعت کے وقت رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ہاتھ نے کسی عورت کا ہاتھ کبھی نہیں چھوا۔ اس روایت میں بیعت النساء، عورتوں کی زبانی بیعت اور شرعی احتیاط کا واضح بیان ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ دینی عہد زبان سے لیا گیا، اور جسمانی لمس سے بچا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم عورتوں سے بیعت زبانی لیتے تھے۔
- بیعت میں آیت کے اندر بیان کی گئی شرائط کا اقرار لیا جاتا تھا۔
- دینی کام میں پاکیزگی اور احتیاط کا طریقہ اختیار کیا گیا۔
