صحیح بخاری حدیث ۴۸۹۳ - معروف میں اطاعت کی شرط
معروف میں اطاعت: عورتوں کی بیعت کی ایک شرط
صحیح بخاری : ۴۸۹۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۹۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّبَيْرَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ سورة الممتحنة آية 12 ، قَالَ : " إِنَّمَا هُوَ شَرْطٌ شَرَطَهُ اللَّهُ لِلنِّسَاءِ " .
ابن عباس روایت:
´ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ` میں نے زبیر سے سنا، انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «ولا يعصينك في معروف» یعنی ”اور بھلی باتوں (اور اچھے کاموں میں) آپ کی نافرمانی نہ کریں گی۔“ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ بھی ایک شرط تھی جسے اللہ تعالیٰ نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کے وقت) عورتوں کے لیے ضروری قرار دیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۹۳ کا خلاصہ
یہ حدیث معروف میں اطاعت کی شرط کو بیان کرتی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت کے الفاظ ولا يعصينك في معروف کے بارے میں فرمایا کہ یہ وہ شرط تھی جو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لیے بیعت کے وقت مقرر فرمائی۔ یہاں معروف سے مراد وہ بھلا اور درست کام ہے جس کا حکم دیا جائے۔ حدیث میں لمبی تفصیل نہیں، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے کہ بیعت صرف چند ظاہری الفاظ کا نام نہیں تھی، بلکہ اس میں نیکی کے کاموں میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی اطاعت کا اقرار شامل تھا۔ اس روایت کو بیعت النساء، معروف میں اطاعت اور بیعت کی شرائط کے موضوع پر تلاش کیا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیعت میں نیکی کے کاموں میں اطاعت کی شرط شامل تھی۔
- دینی عہد میں صرف دعویٰ نہیں، عمل کا وعدہ بھی ہوتا ہے۔
- آیت کے الفاظ کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیعت کی شرط سمجھا۔
