صحیح بخاری حدیث ۴۸۹۴ - بیعت، گناہ اور کفارہ
بیعت کی شرائط: شرک، زنا اور چوری سے بچنے کا عہد
صحیح بخاری : ۴۸۹۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۹۴
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : حَدَّثَنَاهُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ ، سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَتُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا تَزْنُوا ، وَلَا تَسْرِقُوا ، وَقَرَأَ آيَةَ النِّسَاءِ وَأَكْثَرُ لَفْظِ سُفْيَانَ قَرَأَ الْآيَةَ ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْهَا شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ ، فَسَتَرَهُ اللَّهُ ، فَهُوَ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ " . تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، فِي الْآيَةِ .
عبادہ بن صامت روایت:
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم مجھ سے اس بات پر بیعت کرو گے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گے اور نہ زنا کرو گے اور نہ چوری کرو گے۔“آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النساء کی آیتیں پڑھیں۔ سفیان نے اس حدیث میں اکثر یوں کہا کہ آپ نے یہ آیت پڑھی۔ پھر تم میں سے جو شخص اس شرط کو پورا کرے گا تو اس کا اجر اللہ پر ہے اور جو کوئی ان میں سے کسی شرط کی خلاف ورزی کر بیٹھا اور اس پر اسے سزا بھی مل گئی تو سزا اس کے لیے کفارہ بن جائے گی لیکن کسی نے اپنے کسی عہد کے خلاف کیا اور اللہ نے اسے چھپا لیا تو وہ اللہ کے حوالے ہے اللہ چاہے تو اسے اس پر عذاب دے اور اگر چاہے معاف کر دے، سفیان کے ساتھ اس حدیث کو عبدالرزاق نے بھی معمر سے روایت کیا انہوں نے زہری سے اور یوں ہی کہا آیت پڑھی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۹۴ کا خلاصہ
یہ حدیث بیعت کی شرائط کے بارے میں ہے۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ کیا تم اس بات پر بیعت کرتے ہو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، زنا نہیں کرو گے اور چوری نہیں کرو گے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے آیت پڑھی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ جو شخص اس شرط کو پورا کرے گا، اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ جو شخص ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کرے اور دنیا میں اس پر سزا پا لے، تو وہ سزا اس کے لیے کفارہ ہو گی۔ اور جس کی خطا اللہ نے چھپا لی، وہ اللہ کے حوالے ہے، چاہے عذاب دے چاہے معاف فرمائے۔ حدیث میں امید بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیعت میں توحید اور بڑے گناہوں سے بچنے کا عہد لیا گیا۔
- دنیا کی شرعی سزا بعض گناہوں کے لیے کفارہ بن سکتی ہے۔
- چھپے ہوئے گناہ کا آخری معاملہ اللہ کے فیصلے پر ہے۔
