صحیح بخاری حدیث ۴۸۹۵ - عید، خطبہ اور عورتوں کا صدقہ
عیدالفطر کی نماز اور عورتوں کا صدقہ: ایک جامع حدیث
صحیح بخاری : ۴۸۹۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۹۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " شَهِدْتُ الصَّلَاةَ يَوْمَ الْفِطْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَ عُمَرَ وَ عُثْمَانَ ، فَكُلُّهُمْ يُصَلِّيهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ ، ثُمَّ يَخْطُبُ بَعْدُ ، فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ يُجَلِّسُ الرِّجَالَ بِيَدِهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّى أَتَى النِّسَاءَ مَعَ بِلَالٍ ، فَقَالَ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلا يَسْرِقْنَ وَلا يَزْنِينَ وَلا يَقْتُلْنَ أَوْلادَهُنَّ وَلا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ سورة الممتحنة آية 12 حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ كُلِّهَا ، ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ أَنْتُنَّ عَلَى ذَلِكَ ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَا يَدْرِي الْحَسَنُ مَنْ هِيَ ، قَالَ : فَتَصَدَّقْنَ وَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ ، فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ " .
ابن عباس روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ عیدالفطر کی نماز پڑھی ہے۔ ان تمام بزرگوں نے نماز خطبہ سے پہلے پڑھی تھی اور خطبہ بعد میں دیا تھا (ایک مرتبہ خطبہ سے فارغ ہونے کے بعد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اترے گویا اب بھی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، جب آپ لوگوں کو اپنے ہاتھ کے اشارے سے بٹھا رہے تھے پھر آپ صف چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور عورتوں کے پاس تشریف لائے۔بلال رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی «يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك على أن لا يشركن بالله شيئا ولا يسرقن ولا يزنين ولا يقتلن أولادهن ولا يأتين ببهتان يفترينه بين أيديهن وأرجلهن» یعنی ”اے نبی! جب مومن عورتیں آپ کے پاس آئیں کہ آپ سے ان باتوں پر بیعت کریں کہ اللہ کے ساتھ نہ کسی کو شریک کریں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنے بچوں کو قتل کریں گی اور نہ بہتان لگائیں گی جسے اپنے ہاتھ اور پاؤں کے درمیان گھڑ لیں“ آپ نے پوری آیت آخر تک پڑھی۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آیت پڑھ چکے تو فرمایا تم ان شرائط پر قائم رہنے کا وعدہ کرتی ہو؟ ان میں سے ایک عورت نے جواب دیا جی ہاں یا رسول اللہ! ان کے سوا اور کسی عورت نے (شرم کی وجہ سے) کوئی بات نہیں کہی۔ حسن کو اس عورت کا نام معلوم نہیں تھا بیان کیا کہ پھر عورتوں نے صدقہ دینا شروع کیا اور بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا لیا۔ عورتیں بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں چھلے اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۹۵ کا خلاصہ
یہ حدیث عیدالفطر کی نماز اور عورتوں کو نصیحت کے بارے میں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ عیدالفطر کی نماز پڑھی، اور سب نماز پہلے پڑھتے، خطبہ بعد میں دیتے۔ ایک موقع پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم مردوں کی صفوں سے گزر کر عورتوں کے پاس تشریف لے گئے، بلال رضی اللہ عنہ ساتھ تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے عورتوں کے سامنے بیعت والی آیت پڑھی، پھر پوچھا کہ کیا تم ان شرائط پر قائم رہنے کا وعدہ کرتی ہو؟ ایک عورت نے جواب دیا۔ پھر عورتوں نے صدقہ دینا شروع کیا اور بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں چھلے اور انگوٹھیاں ڈالیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عید کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھی گئی۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے عورتوں کو الگ جا کر نصیحت فرمائی۔
- نصیحت سننے کے بعد عورتوں نے صدقہ دیا۔
