صحیح بخاری حدیث ۴۸۹۲ - نوحہ سے منع کرنے کی حدیث
نوحہ سے ممانعت: بیعت میں کیا شرط رکھی گئی؟
صحیح بخاری : ۴۸۹۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۹۲
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ عَلَيْنَا : أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12 ، وَنَهَانَا عَنِ النِّيَاحَةِ ، فَقَبَضَتِ امْرَأَةٌ يَدَهَا ، فَقَالَتْ : أَسْعَدَتْنِي فُلَانَةُ أُرِيدُ أَنْ أَجْزِيَهَا ، فَمَا قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، فَانْطَلَقَتْ ، وَرَجَعَتْ ، فَبَايَعَهَا " .
ام عطیہ روایت:
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو آپ نے ہمارے سامنے اس آیت کی تلاوت کی «أن لا يشركن بالله شيئا» کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی اور ہمیں نوحہ (یعنی میت پر زور زور سے رونا پیٹنا) کرنے سے منع فرمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ممانعت پر ایک عورت (خود ام عطیہ رضی اللہ عنہا) نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور عرض کیا کہ فلاں عورت نے نوحہ میں میری مدد کی تھی، میں چاہتی ہوں کہ اس کا بدلہ چکا آؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا چنانچہ وہ گئیں اور پھر دوبارہ آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۹۲ کا خلاصہ
یہ حدیث نوحہ سے منع کرنے کی حدیث ہے۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے بیعت کی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کے سامنے آیت پڑھی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گی، اور آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں نوحہ کرنے سے منع فرمایا۔ ایک عورت نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور کہا کہ فلاں عورت نے نوحہ میں میری مدد کی تھی، میں اس کا بدلہ دینا چاہتی ہوں۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ عورت گئی، پھر واپس آئی، اور بیعت کر لی۔ حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ بیعت صرف رسمی بات نہیں تھی، بلکہ اس میں شرک سے بچنے اور غم کے وقت غلط طریقے سے رونے پیٹنے سے بچنے کا عہد بھی شامل تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیعت میں شرک سے بچنے کا اقرار لیا گیا۔
- میت پر نوحہ کرنا اس حدیث میں منع کیا گیا ہے۔
- دینی عہد کرنے سے پہلے انسان کو اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے۔
