صحیح بخاری حدیث ۷۲۱۶ - مدینہ بھٹی کی طرح ہے
مدینہ بھٹی کی طرح ہے: اسلام پر بیعت کا سبق
صحیح بخاری : ۷۲۱۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۱۶
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعْتُ جَابِرًا ، قَالَ : " جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : بَايِعْنِي عَلَى الْإِسْلَامِ ، فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ، ثُمَّ جَاءَ الْغَدَ مَحْمُومًا ، فَقَالَ : أَقِلْنِي ، فَأَبَى ، فَلَمَّا وَلَّى ، قَالَ : الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طِيبُهَا " .
جابر بن عبداللہ انصاری روایت:
ایک گنوار (نام نامعلوم) یا قیس بن ابی حازم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، کہنے لگا: یا رسول اللہ! اسلام پر مجھ سے بیعت لیجئے۔ آپ نے اس سے بیعت لے لی، پھر دوسرے دن بخار میں ہلہلاتا آیا کہنے لگا میری بیعت فسخ کر دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا (بیعت فسخ نہیں کی) جب وہ پیٹھ موڑ کر چلتا ہوا، تو فرمایا مدینہ کیا ہے (لوہار کی بھٹی ہے) پلید اور ناپاک (میل کچیل) کو چھانٹ ڈالتا ہے اور کھرا ستھرا مال رکھ لیتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۲۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع اسلام پر بیعت اور ثابت قدمی ہے۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ مجھ سے اسلام پر بیعت لیجئے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اس سے بیعت لے لی۔ اگلے دن وہ بخار میں آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت ختم کر دیجئے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے انکار فرمایا۔ جب وہ پیٹھ موڑ کر چلا گیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے، ناپاکی اور میل کچیل کو نکال دیتا ہے اور کھرا مال رکھ لیتا ہے۔ اس حدیث میں مدینہ، بیعت، بخار اور عہد کی آزمائش کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے عہد کو بیماری یا مشکل کی وجہ سے چھوڑنے کا معاملہ ہلکا نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اسلام پر بیعت کے بعد ثابت قدم رہنا ضروری ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بیعت فسخ کرنے کی درخواست قبول نہیں فرمائی۔
- مدینہ کو بھٹی سے تشبیہ دی گئی جو میل کچیل کو الگ کرتی ہے۔
