صحیح بخاری حدیث ۱۸۸۳ - مدینہ پاکیزہ لوگوں کو نکھارتا ہے
مدینہ کی فضیلت: بھٹی کی طرح پاکیزگی کا پیغام
صحیح بخاری : ۱۸۸۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۸۳
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " جَاءَ أَعْرَابِيّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ، فَجَاءَ مِنَ الْغَدِ مَحْمُومًا ، فَقَالَ : أَقِلْنِي ، فَأَبَى ثَلَاثَ مِرَارٍ ، فَقَالَ : الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طَيِّبُهَا " .
جابر روایت:
ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام پر بیعت کی، دوسرے دن آیا تو اسے بخار چڑھا ہوا تھا کہنے لگا کہ میری بیعت توڑ دیجئیے! تین بار اس نے یہی کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا پھر فرمایا کہ مدینہ کی مثال بھٹی کی سی ہے کہ میل کچیل کو دور کر کے خالص جوہر کو نکھار دیتی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۸۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع مدینہ کی فضیلت ہے۔ ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی، پھر اگلے دن بخار کی حالت میں آ کر بیعت ختم کرنے کی درخواست کی۔ اس نے تین بار کہا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہ فرمایا۔ پھر آپ نے مدینہ کی مثال بھٹی سے دی۔ بھٹی لوہے یا دھات سے میل کچیل الگ کرتی ہے اور خالص چیز کو نمایاں کر دیتی ہے۔ اسی طرح حدیث میں مدینہ کے بارے میں فرمایا گیا کہ وہ میل کچیل کو دور کرتا ہے اور اچھے لوگوں کو نکھار دیتا ہے۔ اس روایت میں بیعت، آزمائش، مدینہ کی پاکیزگی، اور ثابت قدمی کا سبق موجود ہے۔ بات یہ ہے کہ ہر مشکل چھوڑ کر بھاگنے کے لیے نہیں ہوتی، بعض اوقات وہ انسان کے سچے ارادے کو ظاہر کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اسلام پر بیعت کے بعد وقتی تکلیف کی وجہ سے پیچھے ہٹنا درست رویہ نہیں۔
- مدینہ کو حدیث میں بھٹی سے تشبیہ دی گئی ہے جو میل الگ کرتی ہے۔
- آزمائش انسان کے ارادے اور ثابت قدمی کو ظاہر کر سکتی ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی کی بیعت ختم کرنے کی درخواست قبول نہیں فرمائی۔
