صحیح بخاری حدیث ۷۲۴ - انس رضی اللہ عنہ کی صف بندی پر تنبیہ
صف بندی میں کوتاہی پر صحابی کی نصیحت
صحیح بخاری : ۷۲۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۴
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ ، فَقِيلَ لَهُ : " مَا أَنْكَرْتَ مِنَّا مُنْذُ يَوْمِ عَهِدْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا أَنْكَرْتُ شَيْئًا ، إِلَّا أَنَّكُمْ لَا تُقِيمُونَ الصُّفُوفَ " ، وَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ قَدِمَ عَلَيْنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْمَدِينَةَ بِهَذَا .
انس بن مالک روایت:
جب وہ (بصرہ سے) مدینہ آئے، تو آپ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک اور ہمارے اس دور میں آپ نے کیا فرق پایا۔ فرمایا کہ اور تو کوئی بات نہیں صرف لوگ صفیں برابر نہیں کرتے۔ اور عقبہ بن عبید نے بشیر بن یسار سے یوں روایت کیا کہ انس رضی اللہ عنہ ہمارے پاس مدینہ تشریف لائے۔ پھر یہی حدیث بیان کی۔
صحیح بخاری حدیث ۷۲۴ کا خلاصہ
اس روایت میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے اور بعد کے دور میں انہوں نے کیا فرق دیکھا۔ انہوں نے فرمایا کہ اور کوئی بات نہیں، صرف یہ کہ لوگ صفیں برابر نہیں کرتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی صف بندی صحابہ کے نزدیک عام سی بات نہیں تھی۔ وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کا حصہ سمجھتے تھے۔ حدیث ہمیں یہ نہیں کہتی کہ ہر فرق کا ذکر کیا گیا، بلکہ خاص طور پر صفوں کے برابر نہ ہونے کو بیان کیا گیا۔ اس لیے جب ہم نماز میں کھڑے ہوں تو صفیں سیدھی کرنے کی حدیث کو یاد رکھیں۔ کندھے سے کندھا ملانا، خالی جگہ نہ چھوڑنا اور صف کو ٹھیک کرنا جماعت کے ادب میں آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ صفوں کے برابر ہونے کو اہم سمجھتے تھے۔
- صفوں کی بے ترتیبی قابل اصلاح بات ہے۔
- نماز میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے طریقے کا خیال رکھنا چاہیے۔
