صحیح بخاری حدیث ۷۲۵ - کندھے اور پاؤں ملا کر صف درست کرنا
نماز کی صف میں کندھا اور قدم ملانے کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۲۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۵
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي ، وَكَانَ أَحَدُنَا يُلْزِقُ مَنْكِبَهُ بِمَنْكِبِ صَاحِبِهِ وَقَدَمَهُ بِقَدَمِهِ " .
انس روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، صفیں برابر کر لو۔ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا رہتا ہوں اور ہم میں سے ہر شخص یہ کرتا کہ (صف میں) اپنا کندھا اپنے ساتھی کے کندھے سے اور اپنا قدم (پاؤں) اس کے قدم (پاؤں) سے ملا دیتا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی صفیں درست کر لو، کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔ پھر انس رضی اللہ عنہ نے صحابہ کے عمل کو بیان کیا کہ ہر شخص اپنا کندھا اپنے ساتھی کے کندھے سے اور اپنا قدم اس کے قدم سے ملا دیتا تھا۔ اس سے نماز کی صف بندی کا عملی انداز سامنے آتا ہے۔ حدیث میں اصل بات صف کو قائم کرنا اور خالی جگہ ختم کرنا ہے۔ اس کا مقصد نمازیوں میں نظم پیدا کرنا ہے، نہ کہ کسی کو تکلیف دینا۔ اس لیے صفیں برابر رکھنے کی حدیث کو سمجھتے ہوئے نرمی، سکون اور باہمی خیال کے ساتھ صف درست کرنی چاہیے۔ یہ عمل جماعت کی خوبصورتی اور نظم کو بڑھاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صف درست کرنے کے لیے خالی جگہ ختم کرنی چاہیے۔
- صحابہ کندھے اور قدم ملا کر صف کو سیدھا کرتے تھے۔
- صف بندی میں نظم کے ساتھ نرمی بھی رہنی چاہیے۔
