صحیح بخاری حدیث ۷۲۴۷ - سحری اور فجر کی پہچان
سحری کی حدیث: فجر صادق سے پہلے کھانے پینے کی اجازت
صحیح بخاری : ۷۲۴۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۴۷
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سَحُورِهِ فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ ، أَوْ قَالَ : يُنَادِي لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ وَلَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا ، وَجَمَعَ يَحْيَى كَفَّيْهِ حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا ، وَمَدَّ يَحْيَى إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَتَيْنِ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی شخص کو بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سحری کھانے سے نہ روکے کیونکہ وہ صرف اس لیے اذان دیتے ہیں یا نداء کرتے ہیں تاکہ جو نماز کے لیے بیدار ہیں وہ واپس آ جائیں اور جو سوئے ہوئے ہیں وہ بیدار ہو جائیں اور فجر وہ نہیں ہے جو اس طرح لمبی دھار ہوتی ہے۔ یحییٰ نے اس کے اظہار کے لیے اپنے دونوں ہاتھ ملائے اور کہا یہاں تک کہ وہ اس طرح ظاہر ہو جائے اور اس کے اظہار کے لیے انہوں نے اپنی دونوں شہادت کی انگلیوں کو پھیلا کر بتلایا۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۲۴۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سحری کے وقت اور فجر کی پہچان کا ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کو بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سحری سے نہ روکے، کیونکہ وہ اذان اس لیے دیتے ہیں کہ جو نماز میں مشغول ہیں وہ واپس آ جائیں اور جو سوئے ہوئے ہیں وہ بیدار ہو جائیں۔ پھر فجر کی وضاحت بھی فرمائی گئی کہ فجر وہ نہیں جو لمبی دھار کی طرح دکھائی دے، بلکہ وہ ہے جو افق پر پھیل کر ظاہر ہو۔ اس روایت کا اصل موضوع سحری کا وقت، اذان بلال، اور فجر صادق کی پہچان ہے۔ روزہ رکھنے والے کے لیے یہ حدیث سادہ انداز میں بتاتی ہے کہ سحری بند کرنے کا تعلق صحیح فجر کے ظاہر ہونے سے ہے، نہ کہ ہر اذان سے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سحری ختم ہونے کی علامت نہیں تھی۔
- سحری کے وقت میں فجر کی صحیح پہچان ضروری ہے۔
- اذان کا مقصد کبھی لوگوں کو جگانا اور متوجہ کرنا بھی ہو سکتا ہے۔
- فجر کی پہچان میں جلد بازی سے بچنا چاہیے۔
