صحیح بخاری حدیث ۷۲۴۸ - بلال کی اذان اور سحری کا وقت

اذان بلال کی حدیث: سحری کب بند کی جائے؟

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۴۸

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بلال (رمضان میں) رات ہی میں اذان دیتے ہیں (وہ نماز فجر کی اذان نہیں ہوتی) پس تم کھاؤ پیو، یہاں تک کہ عبداللہ ابن ام مکتوم اذان دیں (تو کھانا پینا بند کر دو)۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۲۴۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں رمضان کی سحری کے وقت کو صاف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال رضی اللہ عنہ رات ہی میں اذان دیتے ہیں، اس لیے تم کھاؤ پیو، یہاں تک کہ عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیں۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر اذان کا حکم ایک جیسا نہیں ہوتا، بلکہ اس کے وقت اور مقصد کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہاں بلال رضی اللہ عنہ کی اذان نماز فجر کی آخری اذان نہیں تھی، اس لیے اس کے بعد بھی سحری جاری رکھی جا سکتی تھی۔ سحری کا وقت، بلال کی اذان، ابن ام مکتوم کی اذان، اور رمضان سحری حدیث جیسے موضوعات کے لیے یہ روایت بہت اہم ہے۔ اس کا پیغام مختصر ہے: کھانا پینا اس وقت بند ہو جب فجر کی اذان کا وقت آ جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بلال رضی اللہ عنہ کی رات والی اذان کے بعد سحری جاری رکھی جا سکتی تھی۔
  • عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان سحری ختم ہونے کی علامت تھی۔
  • روزے میں وقت کی درست سمجھ اہم ہے۔
  • حدیث میں کھانے پینے کی اجازت کو واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں