صحیح بخاری حدیث ۷۲۵۸ - جھگڑا رسول صلى الله عليه وسلم کے پاس لایا گیا
فیصلہ کی حدیث: جھگڑا نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے سامنے پیش کیا گیا
صحیح بخاری : ۷۲۵۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۵۸
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدَ بْنَ خَالِدٍ ، أَخْبَرَاهُ ، " أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ابوہریرہ اور زید بن خالد روایت:
دو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا جھگڑا لائے۔ دوسری سند اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا (تفصیل آگے حدیث ذیل میں ہے)۔
صحیح بخاری حدیث ۷۲۵۸ کا خلاصہ
یہ روایت بہت مختصر ہے۔ اس میں ابو ہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما کی خبر بیان ہوئی ہے کہ دو شخص اپنا جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے۔ اسی متن میں تفصیل بیان نہیں کی گئی، بلکہ صرف اتنا ذکر ہے کہ دونوں کا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا۔ اس لیے اس حدیث کی تشریح بھی اسی حد تک رہنی چاہیے۔ اس کا بنیادی موضوع فیصلہ، جھگڑا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معاملہ لے جانا ہے۔ فیصلہ کی حدیث، نبی صلى الله عليه وسلم کا فیصلہ، اور جھگڑا حل کرنے کی حدیث جیسے الفاظ سے تلاش کرنے والوں کے لیے یہ روایت بتاتی ہے کہ اختلاف کی صورت میں معاملہ صاحب حکم کے سامنے رکھا گیا۔ تفصیل اسی سلسلے کی بعد والی روایت میں آتی ہے، مگر یہاں صرف اصل پیشی کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دو افراد نے اپنا جھگڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا۔
- اختلاف کی صورت میں معاملہ فیصلے کے لیے لے جایا جا سکتا ہے۔
- اس روایت میں صرف مقدمہ پیش ہونے کا ذکر ہے، تفصیل نہیں۔
- متن سے زیادہ بات شامل نہیں کرنی چاہیے۔
