صحیح بخاری حدیث ۷۲۵۹ - نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس مقدمہ

نبی صلى الله عليه وسلم کا فیصلہ: دو فریق اپنا معاملہ لے کر آئے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۵۹

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدَ بْنَ خَالِدٍ ، أَخْبَرَاهُ ، " أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

ابوہریرہ اور زید بن خالد روایت:

دو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا جھگڑا لائے۔ دوسری سند اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا (تفصیل آگے حدیث ذیل میں ہے)۔

صحیح بخاری حدیث ۷۲۵۹ کا خلاصہ

اس حدیث کا متن مختصر ہے اور اسی وجہ سے اس کی تشریح بھی محتاط انداز میں ہونی چاہیے۔ روایت میں ابو ہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما سے نقل ہے کہ دو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا جھگڑا لائے۔ یہاں جھگڑے کی تفصیل، فریقین کی پوری گفتگو، یا فیصلے کا مکمل بیان موجود نہیں۔ اس لیے اس روایت کا اصل سبق یہی ہے کہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے فیصلے کے لیے پیش کیا گیا۔ نبی صلى الله عليه وسلم کا فیصلہ، جھگڑا حل کرنے کی حدیث، اور کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ جیسے موضوعات کے لیے یہ روایت اسی سلسلے کا ابتدائی حصہ معلوم ہوتی ہے۔ متن میں جو بات ہے، وہ یہ ہے کہ اختلاف کو معتبر فیصلے کے سامنے رکھا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دو فریق اپنا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے۔
  • روایت میں اصل جھگڑے کی تفصیل بیان نہیں ہوئی۔
  • دینی متن کی تشریح میں متن سے باہر بات نہیں بڑھانی چاہیے۔
  • اختلاف کا حل فیصلے کے ذریعے طلب کیا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں