صحیح بخاری حدیث ۷۳۱۰ - عورتوں کی تعلیم اور صبر کی فضیلت
عورتوں کی دینی تعلیم کی حدیث: علم، سوال اور صبر
صحیح بخاری : ۷۳۱۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۱۰
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، " جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ ، فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ ، فَقَالَ : اجْتَمِعْنَ ، فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَاجْتَمَعْنَ ، فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلَاثَةً إِلَّا كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوِ اثْنَيْنِ ، قَالَ : فَأَعَادَتْهَا مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : وَاثْنَيْنِ ، وَاثْنَيْنِ ، وَاثْنَيْنِ " .
ابوسعید روایت:
ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: یا رسول اللہ! آپ کی تمام احادیث مرد لے گئے، ہمارے لیے بھی آپ کوئی دن اپنی طرف سے مخصوص کر دیں جس میں ہم آپ کے پاس آئیں اور آپ ہمیں وہ تعلیمات دیں جو اللہ نے آپ کو سکھائی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں فلاں دن فلاں فلاں جگہ جمع ہو جاؤ۔ چنانچہ عورتیں جمع ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور انہیں اس کی تعلیم دی جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھایا تھا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے جو عورت بھی اپنی زندگی میں اپنے تین بچے آگے بھیج دے گی۔ (یعنی ان کی وفات ہو جائے گی) تو وہ اس کے لیے دوزخ سے رکاوٹ بن جائیں گے۔ اس پر ان میں سے ایک خاتون نے کہا: یا رسول اللہ! دو؟ انہوں نے اس کلمہ کو دو مرتب دہرایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں دو، دو، دو بھی یہی درجہ رکھتے ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۳۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع عورتوں کی تعلیم ہے۔ ایک خاتون نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے عرض کیا کہ مرد آپ کی احادیث زیادہ سن لیتے ہیں، ہمارے لیے بھی ایک دن مقرر کر دیں تاکہ ہم آپ سے وہ علم سیکھیں جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ان کے لیے دن اور جگہ مقرر فرمائی، پھر عورتیں جمع ہوئیں اور آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں تعلیم دی۔ اسی موقع پر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جس عورت کے تین بچے اس کی زندگی میں وفات پا جائیں، وہ اس کے لیے دوزخ سے رکاوٹ بنیں گے۔ ایک عورت نے دو بچوں کے بارے میں پوچھا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے دو کے بارے میں بھی یہی فرمایا۔ اس حدیث میں خواتین کی تعلیم، دینی سوال، صبر اور اولاد کی وفات پر اجر کا مضمون صاف طور پر موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عورتوں کو دینی علم سیکھنے کا حق اور موقع دیا گیا۔
- صحابیات دینی سوال کرنے میں سنجیدہ تھیں۔
- اولاد کی وفات پر صبر کرنے والی عورت کے لیے بڑی بشارت بیان ہوئی۔
- دینی مجلس میں سوال کر کے وضاحت لینا درست ہے۔
