صحیح بخاری حدیث ۷۳۰۹ - میراث کے حکم کا انتظار

میراث کی آیت والی حدیث: مال کے فیصلے میں وحی کی رہنمائی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۰۹

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " مَرِضْتُ ، فَجَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي ، وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا مَاشِيَانِ ، فَأَتَانِي وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَبَّ وَضُوءَهُ عَلَيَّ ، فَأَفَقْتُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي ؟ ، قَالَ : فَمَا أَجَابَنِي بِشَيْءٍ حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ " .

جابر بن عبداللہ روایت:

میں بیمار پڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ عیادت کے لیے تشریف لائے۔ یہ دونوں بزرگ پیدل چل کر آئے تھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو مجھ پر بے ہوشی طاری تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا، اس سے مجھے افاقہ ہوا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور بعض اوقات سفیان نے یہ الفاظ بیان کئے کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنے مال کے بارے میں کس طرح فیصلہ کروں، میں اپنے مال کا کیا کروں؟ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ میراث کی آیت نازل ہوئی۔

صحیح بخاری حدیث ۷۳۰۹ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع میراث ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیمار تھے، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ پیدل ان کی عیادت کے لیے آئے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ پر بے ہوشی طاری تھی، تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے وضو کیا اور وضو کا پانی ان پر چھڑکا، جس سے انہیں افاقہ ہوا۔ پھر انہوں نے اپنے مال کے بارے میں پوچھا کہ میں کیا کروں؟ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فوراً جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ میراث کی آیت نازل ہوئی۔ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مال، وراثت اور دینی حکم میں جلدی سے ذاتی رائے نہیں دی گئی، بلکہ اللہ کے حکم کا انتظار کیا گیا۔ میراث کی حدیث، مال کی تقسیم، عیادت مریض اور وحی کی رہنمائی اس روایت کے اہم موضوعات ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم مریض کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔
  • مال اور میراث کے فیصلے میں اللہ کے حکم کو بنیاد بنایا گیا۔
  • دینی مسئلے میں بغیر حکم کے جلدی جواب دینا مناسب نہیں۔
  • صحابہ اپنے مالی معاملات میں بھی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے رہنمائی لیتے تھے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں