صحیح بخاری حدیث ۷۳۰۸ - دین میں اپنی رائے کو مشتبہ سمجھو

اتباع سنت کی حدیث: دین میں اپنی رائے کو حد میں رکھو

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۰۸

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا وَائِلٍ : هَلْ شَهِدْتَ صِفِّينَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَسَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ ، يَقُولُ : . ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ لَرَدَدْتُهُ وَمَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا إِلَى أَمْرٍ يُفْظِعُنَا إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ غَيْرَ هَذَا الْأَمْرِ ، قَالَ : وَقَالَ أَبُو وَائِلٍ : شَهِدْتُ صِفِّينَ وَبِئْسَتْ صِفُّون " .

اعمش روایت:

میں نے ابووائل سے پوچھا تم صفین کی لڑائی میں شریک تھے؟ کہا کہ ہاں، پھر میں نے سہل بن حنیف کو کہتے سنا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے (جنگ صفین کے موقع پر) کہا کہ لوگوں! اپنے دین کے مقابلہ میں اپنی رائے کو بےحقیقت سمجھو میں نے اپنے آپ کو ابوجندل رضی اللہ عنہ کے واقعہ کے دن (صلح حدیبیہ کے موقع پر) دیکھا کہ اگر میرے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہٹنے کی طاقت ہوتی تو میں اس دن آپ سے انحراف کرتا (اور کفار قریش کے ساتھ ان شرائط کو قبول نہ کرتا) اور ہم نے جب کسی مہم پر اپنی تلواریں کاندھوں پر رکھیں (لڑائی شروع کی) تو ان تلواروں کی بدولت ہم کو ایک آسانی مل گئی جسے ہم پہچانتے تھے مگر اس مہم میں (یعنی جنگ صفین میں مشکل میں گرفتار ہیں دونوں طرف والے اپنے اپنے دلائل پیش کرتے ہیں) ابواعمش نے کہا کہ ابووائل نے بتایا کہ میں صفین میں موجود تھا اور صفین کی لڑائی بھی کیا بری لڑائی تھی جس میں مسلمان آپس میں کٹ مرے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۳۰۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع اتباع سنت ہے۔ حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے جنگ صفین کے موقع پر لوگوں کو سمجھایا کہ دین کے معاملے میں اپنی رائے کو مشتبہ سمجھو۔ انہوں نے صلح حدیبیہ کے دن ابوجندل رضی اللہ عنہ کے واقعے کا ذکر کیا کہ اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے حکم سے ہٹ جاتے، کیونکہ ظاہری طور پر معاملہ سخت لگ رہا تھا۔ مگر انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے حکم کے سامنے اپنی رائے کو نہیں چلایا۔ یہ بات آج بھی بہت اہم ہے: دین میں رائے کی جگہ ہے، مگر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے واضح حکم کے مقابل نہیں۔ اتباع سنت، دین میں رائے، صلح حدیبیہ اور صحابہ کا طریقہ اس حدیث کے اہم سرچ موضوعات ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دین کے مقابل اپنی رائے کو حتمی سمجھنا درست نہیں۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا حکم ذاتی پسند یا ناپسند سے اوپر ہے۔
  • کبھی کوئی دینی فیصلہ شروع میں مشکل لگتا ہے، مگر مومن کو اطاعت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
  • مسلمانوں کے باہمی اختلافات میں جلد بازی اور جذبات سے بچنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں