صحیح بخاری حدیث ۷۳۱۲ - دین کی سمجھ اللہ کی خیر ہے
دین کی سمجھ کی حدیث: خیر کی نشانی کیا ہے؟
صحیح بخاری : ۷۳۱۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۱۲
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَخْطُبُ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَيُعْطِي اللَّهُ وَلَنْ يَزَالَ أَمْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ مُسْتَقِيمًا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ، أَوْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ " .
حمید روایت:
میں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے اور اس امت کا معاملہ ہمیشہ درست رہے گا، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ) یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ پہنچے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۳۱۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع فقہ دین ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔ یہ بات دینی علم کو صرف معلومات نہیں بناتی، بلکہ سمجھ، عمل اور صحیح فہم سے جوڑتی ہے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں تو تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے۔ اس جملے سے بندے کو اللہ کی عطا کا احساس ہوتا ہے۔ آخر میں امت کے معاملے کے درست رہنے کا ذکر آیا، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو یا اللہ کا حکم آ پہنچے۔ دین کی سمجھ کی حدیث، من یرد اللہ بہ خیرا، فقہ فی الدین اور دینی علم کی فضیلت اس روایت کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین کی سمجھ اللہ کی طرف سے خیر کی علامت ہے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ اصل عطا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
- علم کا مقصد دین کو صحیح سمجھنا ہے، صرف الفاظ یاد کرنا نہیں۔
- امت کے بارے میں حدیث میں امید اور ثبات کا مضمون موجود ہے۔
