صحیح بخاری حدیث ۷۳۱۴ - بچے کے نسب سے انکار میں احتیاط

نسب کے انکار کی حدیث: رنگ کی بنیاد پر فیصلہ نہ کرو

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۱۴

حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ وَإِنِّي أَنْكَرْتُهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَمَا أَلْوَانُهَا ؟ ، قَالَ : حُمْرٌ ، قَالَ : هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ؟ ، قَالَ : إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا ، قَالَ : فَأَنَّى تُرَى ذَلِكَ جَاءَهَا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عِرْقٌ نَزَعَهَا ، قَالَ : وَلَعَلَّ هَذَا عِرْقٌ نَزَعَهُ وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ " .

ابوہریرہ روایت:

ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میری بیوی کے یہاں لڑکا پیدا ہوا ہے جس کو میں اپنا نہیں سمجھتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہیں۔ دریافت کیا کہ ان کے رنگ کیسے ہیں؟ کہا کہ سرخ ہیں۔ پوچھا کہ ان میں کوئی خاکی بھی ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں ان میں خاکی بھی ہیں۔اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ پھر کس طرح تم سمجھتے ہو کہ اس رنگ کا پیدا ہوا؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ممکن ہے اس بچے کا رنگ بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہو؟ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بچے کے انکار کرنے کی اجازت نہیں دی۔

صحیح بخاری حدیث ۷۳۱۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع نسب ہے۔ ایک اعرابی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میری بیوی کے ہاں ایسا لڑکا پیدا ہوا ہے جسے میں اپنا نہیں سمجھتا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فوراً اس کی بات قبول نہیں کی، بلکہ اس سے اونٹوں کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے بتایا کہ اس کے اونٹ سرخ ہیں، مگر ان میں خاکی رنگ کے اونٹ بھی ہیں۔ جب اس نے خود کہا کہ شاید کسی رگ نے وہ رنگ کھینچ لیا ہو، تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ممکن ہے اس بچے کا رنگ بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہو۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے بچے کے انکار کی اجازت نہیں دی۔ یہ حدیث نسب، اولاد، رنگ کے فرق اور جلد بازی سے بچنے کی صاف تعلیم دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بچے کے رنگ کی بنیاد پر نسب کا انکار نہیں کیا گیا۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے مثال دے کر بات سمجھائی۔
  • خاندانی معاملے میں جلدی فیصلہ کرنے سے بچنا چاہیے۔
  • شبہ ہو تو دلیل اور سمجھ کے ساتھ بات کی جائے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں