صحیح بخاری حدیث ۷۳۲۰ - یہود و نصاریٰ کی پیروی سے تنبیہ
یہود و نصاریٰ کی پیروی کی حدیث: دین میں اپنی راہ پہچانو
صحیح بخاری : ۷۳۲۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۲۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الصَّنْعَانِيُّ مِنْ الْيَمَنِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا شِبْرًا ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْيَهُودُ ، وَالنَّصَارَى ، قَالَ : فَمَنْ " .
ابو سعید خدری روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم اپنے سے پہلی امتوں کی ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز میں اتباع کرو گے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم اس میں بھی ان کی اتباع کرو گے۔“ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا یہود و نصاریٰ مراد ہیں؟ فرمایا پھر اور کون۔
صحیح بخاری حدیث ۷۳۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع پچھلی قوموں سے مشابہت ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے سے پہلی امتوں کی ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز میں پیروی کرو گے، یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی ان کی پیروی کرو گے۔ صحابہ نے پوچھا کہ کیا یہود و نصاریٰ مراد ہیں؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ پھر اور کون۔ حدیث میں مثال بہت مضبوط ہے، مگر مقصد صاف ہے کہ امت میں پچھلی قوموں کے راستوں کی نقل کا خطرہ ہو گا۔ اس روایت سے یہ سمجھ آتا ہے کہ دین میں اپنی اصل رہنمائی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی سنت سے لینی چاہیے، نہ کہ ہر چلن کو بغیر سوچے اپنا لیا جائے۔ یہود و نصاریٰ کی پیروی، گوہ کے سوراخ والی حدیث اور مشابہت اقوام اس کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امت میں پچھلی قوموں کی پیروی کا رجحان بتایا گیا۔
- حدیث میں گوہ کے سوراخ کی مثال شدت کو سمجھانے کے لیے آئی۔
- صحابہ نے یہود و نصاریٰ کے بارے میں وضاحت پوچھی۔
- دین میں اصل معیار رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی ہدایت ہے۔
