صحیح بخاری حدیث ۷۳۲۱ - پہلے قتل کی بری رسم
ناحق قتل کی حدیث: بری رسم شروع کرنے کا انجام
صحیح بخاری : ۷۳۲۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۲۱
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْهَا " ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ : مِنْ دَمِهَا لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ أَوَّلًا .
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص بھی ظلم کے ساتھ قتل کیا جائے گا اس کے (گناہ کا) ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے (قابیل) پر بھی پڑے گا۔“ بعض اوقات سفیان نے اس طرح بیان کیا کہ ”اس کے خون کا“ کیونکہ اسی نے سب سے پہلے ناحق خون کی بری رسم قائم کی۔
صحیح بخاری حدیث ۷۳۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع ناحق قتل ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو شخص بھی ظلم کے ساتھ قتل کیا جائے گا، اس کے گناہ کا ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے پر بھی پڑے گا۔ روایت میں وجہ بھی بیان ہوئی کہ اسی نے سب سے پہلے ناحق قتل کی بری رسم قائم کی۔ اس حدیث کا پیغام بہت سیدھا ہے: برائی شروع کرنے والا صرف اپنے عمل کا ذمہ دار نہیں رہتا، بلکہ اس کے بعد ہونے والی اسی برائی میں بھی اس کا حصہ بن سکتا ہے۔ یہاں کسی لمبی تاریخی تفصیل کی ضرورت نہیں، کیونکہ حدیث خود بتا رہی ہے کہ مسئلہ قتل کی ابتدا اور اس کے اثرات کا ہے۔ ناحق قتل کی حدیث، قابیل کی حدیث، بری رسم شروع کرنا اور خون ناحق اس روایت کے اہم سرچ موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ناحق قتل بہت سنگین گناہ ہے۔
- بری رسم شروع کرنے والے پر بعد کے اثرات کا بوجھ بھی آ سکتا ہے۔
- حدیث میں آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے کا ذکر قتل کی ابتدا کے سبب آیا۔
- کسی ظلم کی بنیاد ڈالنا بہت خطرناک عمل ہے۔
