صحیح بخاری حدیث ۷۳۲۵ - نماز عید اور عورتوں کا صدقہ
نماز عید کی حدیث: خطبہ، اذان کے بغیر نماز، اور صدقہ
صحیح بخاری : ۷۳۲۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۲۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نَعَمْ ، وَلَوْلَا مَنْزِلَتِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مِنَ الصِّغَرِ ، فَأَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ ، فَصَلَّى ، ثُمَّ خَطَبَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً ، ثُمَّ أَمَرَ بِالصَّدَقَةِ ، فَجَعَلَ النِّسَاءُ يُشِرْنَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ فَأَمَرَ بِلَالًا : فَأَتَاهُنَّ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
عبدالرحمٰن بن عابس روایت:
´ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا، کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ` کیا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں گئے ہیں؟ کہا کہ ہاں میں اس وقت کم سن تھا۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھ کو اتنا نزدیک کا رشتہ نہ ہوتا اور کم سن نہ ہوتا تو آپ کے ساتھ کبھی نہیں رہ سکتا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے مکان کے پاس ہے اور وہاں آپ نے نماز عید پڑھائی پھر خطبہ دیا۔ انہوں نے اذان اور اقامت کا ذکر نہیں کیا، پھر آپ نے صدقہ دینے کا حکم دیا تو عورتیں اپنے کانوں اور گردنوں کی طرف ہاتھ بڑھانے لگیں زیوروں کا صدقہ دینے کے لیے، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا، وہ آئے اور صدقہ میں ملی ہوئی چیزوں کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس گئے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۳۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع نماز عید ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ عید میں گئے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں، مگر اس وقت وہ کم سن تھے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم عید کے لیے نکلے، ایک نشان کے پاس نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا۔ روایت میں اذان اور اقامت کا ذکر نہیں آیا۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے صدقہ دینے کا حکم فرمایا۔ عورتیں اپنے کانوں اور گردنوں کی طرف ہاتھ بڑھانے لگیں، یعنی زیورات صدقہ میں دینے لگیں۔ پھر نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، وہ صدقہ لے کر آپ صلى الله عليه وسلم کے پاس واپس آئے۔ اس حدیث میں نماز عید، خطبہ عید، اذان و اقامت، عورتوں کا صدقہ اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی عملی تعلیم کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عید کی نماز کے بعد خطبہ دیا گیا۔
- اس روایت میں عید کی نماز کے لیے اذان اور اقامت کا ذکر نہیں ہے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے صدقہ کی ترغیب دی۔
- خواتین نے اپنے زیورات میں سے صدقہ دیا۔
