صحیح بخاری حدیث ۷۳۲۴ - ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بھوک
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بھوک کی حدیث: فقر اور صبر
صحیح بخاری : ۷۳۲۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۲۴
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : " كُنَّا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُمَشَّقَانِ مِنْ كَتَّانٍ ، فَتَمَخَّطَ ، فَقَالَ : بَخْ بَخْ أَبُو هُرَيْرَةَ يَتَمَخَّطُ فِي الْكَتَّانِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَأَخِرُّ فِيمَا بَيْنَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ مَغْشِيًّا عَلَيَّ ، فَيَجِيءُ الْجَائِي فَيَضَعْ رِجْلَهُ عَلَى عُنُقِي وَيُرَى أَنِّي مَجْنُونٌ ، وَمَا بِي مِنْ جُنُونٍ مَا بِي ، إِلَّا الْجُوعُ " .
محمد بن سیرین روایت:
ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور ان کے جسم پر کتان کے دو کپڑے گیرو میں رنگے ہوئے تھے۔ انہوں نے ان ہی کپڑوں میں ناک صاف کی اور کہا واہ واہ دیکھو ابوہریرہ کتان کے کپڑوں میں ناک صاف کرتا ہے، اب ایسا مالدار ہو گیا حالانکہ میں نے اپنے آپ کو ایک زمانہ میں ایسا پایا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے درمیان بیہوش ہو کر گڑ پڑتا تھا اور گزرنے والا میری گردن پر یہ سمجھ کر پاؤں رکھتا تھا کہ میں پاگل ہو گیا ہوں، حالانکہ مجھے جنون نہیں ہوتا تھا، بلکہ صرف بھوک کی وجہ سے میری یہ حالت ہو جاتی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۷۳۲۴ کا خلاصہ
اس روایت کا اصل موضوع صحابہ کا فقر اور صبر ہے۔ محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، ان کے جسم پر کتان کے دو کپڑے تھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے حال پر خود تبصرہ کیا کہ اب وہ کتان کے کپڑوں میں ناک صاف کر رہے ہیں، حالانکہ ایک زمانہ ایسا تھا کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے منبر اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے درمیان بھوک سے بے ہوش ہو کر گر پڑتے تھے۔ گزرنے والا انہیں پاگل سمجھ کر ان کی گردن پر پاؤں رکھ دیتا، حالانکہ انہیں جنون نہیں تھا، صرف بھوک تھی۔ اس حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بھوک، صحابہ کی تنگی، صبر اور بعد کی نعمت کا سادہ بیان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بعض صحابہ نے شدید بھوک اور تنگی برداشت کی۔
- ظاہری حالت دیکھ کر انسان کے بارے میں غلط گمان ہو سکتا ہے۔
- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی پچھلی حالت کو یاد رکھا۔
- نعمت ملنے کے بعد سابقہ آزمائش کو یاد کرنا شکر کا سبب بن سکتا ہے۔
