صحیح بخاری حدیث ۷۳۲۳ - بیعت، خطبہ اور آیت رجم
بیعت اور آیت رجم کی حدیث: بات کو صحیح جگہ بیان کرنا
صحیح بخاری : ۷۳۲۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۲۳
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كُنْتُ أُقْرِئُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، فَلَمَّا كَانَ آخِرُ حَجَّةٍ حَجَّهَا عُمَرُ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : بِمِنًى لَوْ شَهِدْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَتَاهُ رَجُلٌ ، قَالَ : إِنَّ فُلَانًا ، يَقُولُ : لَوْ مَاتَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ لَبَايَعْنَا فُلَانًا ، فَقَالَ عُمَرُ : لَأَقُومَنَّ الْعَشِيَّةَ ، فَأُحَذِّرَ هَؤُلَاءِ الرَّهْطَ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَغْصِبُوهُمْ ، قُلْتُ : لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ الْمَوْسِمَ يَجْمَعُ رَعَاعَ النَّاسِ يَغْلِبُونَ عَلَى مَجْلِسِكَ فَأَخَافُ أَنْ لَا يُنْزِلُوهَا عَلَى وَجْهِهَا ، فَيُطِيرُ بِهَا كُلُّ مُطِيرٍ ، فَأَمْهِلْ حَتَّى تَقْدَمَ الْمَدِينَةَ دَارَ الْهِجْرَةِ وَدَارَ السُّنَّةِ ، فَتَخْلُصَ بِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ ، وَالْأَنْصَارِ فَيَحْفَظُوا مَقَالَتَكَ وَيُنْزِلُوهَا عَلَى وَجْهِهَا ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَأَقُومَنَّ بِهِ فِي أَوَّلِ مَقَامٍ أَقُومُهُ بِالْمَدِينَةِ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ فَكَانَ فِيمَا أُنْزِلَ آيَةُ الرَّجْمِ " .
ابن عباس روایت:
میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو (قرآن مجید) پڑھایا کرتا تھا۔ جب وہ آخری حج آیا جو عمر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا تو عبدالرحمٰن نے منیٰ میں مجھ سے کہا کاش تم امیرالمؤمنین کو آج دیکھتے جب ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ فلاں شخص کہتا ہے کہ اگر امیرالمؤمنین کا انتقال ہو جائے تو ہم فلاں سے بیعت کر لیں گے۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آج سہ پہر کو کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ سناؤں گا اور ان کو ڈراؤں کا جو (عام مسلمانوں کے حق کو) غصب کرنا چاہتے ہیں اور خود اپنی رائے سے امیر منتخب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔میں نے عرض کیا کہ آپ ایسا نہ کریں کیونکہ موسم حج میں ہر طرح کے ناواقف اور معمولی لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ سب کثرت سے آپ کی مجلس میں جمع ہو جائیں گے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ آپ کی بات کا صحیح مطلب نہ سمجھ کر کچھ اور معنیٰ نہ کر لیں اور اسے منہ در منہ اڑاتے پھریں۔ اس لیے ابھی توقف کیجئے۔ جب آپ مدینے پہنچیں جو دار الہجرت اور دار السنہ ہے تو وہاں آپ کے مخاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ، مہاجرین و انصار خالص ایسے ہی لوگ ملیں گے وہ آپ کی بات کو یاد رکھیں گے اور اس کا مطلب بھی ٹھیک بیان کریں گے۔ اس پر امیرالمؤمنین نے کہا کہ واللہ! میں مدینہ پہنچ کر جو پہلا خطبہ دوں گا اس میں اس کا بیان کروں گا۔ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر ہم مدینے آئے تو عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن دوپہر ڈھلے برآمد ہوئے اور خطبہ سنایا۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا رسول بنا کر بھیجا اور آپ پر قرآن اتارا، اس قرآن میں رجم کی آیت بھی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۷۳۲۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع سنت، بیعت اور دینی بات کی درست ترسیل ہے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ کوئی شخص کہہ رہا ہے کہ امیرالمؤمنین کے انتقال کے بعد ہم فلاں سے بیعت کر لیں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فوراً لوگوں کو خبردار کرنا چاہتے تھے، مگر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ حج کے موسم میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں، بات غلط پھیل سکتی ہے؛ مدینہ پہنچ کر صحابہ، مہاجرین اور انصار کے سامنے بیان کریں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں خطبہ دیا اور فرمایا کہ اللہ نے محمد صلى الله عليه وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور کتاب نازل کی، جس میں آیت رجم بھی تھی۔ اس روایت میں بیعت، مشورہ، خطبہ، سنت اور دینی بات کو صحیح موقع پر بیان کرنے کا سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اہم دینی اور اجتماعی بات مناسب جگہ اور سمجھ رکھنے والوں کے سامنے بیان کرنی چاہیے۔
- بیعت کے معاملے میں ذاتی جلد بازی سے بچنے کا اشارہ ملتا ہے۔
- حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں صحابہ کے سامنے خطبہ دینے کا ارادہ کیا۔
- قرآن، سنت اور صحابہ کی فہم کو دینی معاملے میں اہم سمجھا گیا۔
