صحیح بخاری حدیث ۷۳۳ - امام کے تکبیر کہنے پر تکبیر
امام کی تکبیر کے بعد مقتدی کا عمل
صحیح بخاری : ۷۳۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۳
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : خَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ فَصَلَّى لَنَا قَاعِدًا فَصَلَّيْنَا مَعَهُ قُعُودًا ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ : " إِنَّمَا الْإِمَامُ أَوْ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا : رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو گئے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھی اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں بیٹھ کر نماز پڑھی۔پھر نماز پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی کرو۔
صحیح بخاری حدیث ۷۳۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر کر زخمی ہوئے، پھر بیٹھ کر نماز پڑھائی اور صحابہ نے بھی بیٹھ کر اقتدا کی۔ نماز کے بعد آپ نے فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب امام تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو، جب رکوع کرے تو رکوع کرو، جب سر اٹھائے تو سر اٹھاؤ، جب سمع الله لمن حمده کہے تو ربنا لك الحمد کہو، اور جب سجدہ کرے تو سجدہ کرو۔ یہ حدیث نماز باجماعت کے نظم کو سادہ لفظوں میں بیان کرتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مقتدی اپنی حرکت کو امام کے تابع رکھے اور نماز میں جلد بازی یا اختلاف نہ کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امام کی تکبیر کے بعد مقتدی تکبیر کہتا ہے۔
- رکوع اور سجدہ امام کے بعد کیے جاتے ہیں۔
- نماز باجماعت میں نظم اور پیروی ضروری ادب ہے۔
