صحیح بخاری حدیث ۷۳۴ - امام بیٹھ کر پڑھے تو مقتدی بھی بیٹھیں

امام کی پیروی کا جامع اصول

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۴

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا ، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ «سمع الله لمن حمده‏» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔

صحیح بخاری حدیث ۷۳۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ پھر آپ نے بتایا کہ امام تکبیر کہے تو مقتدی تکبیر کہیں، امام رکوع کرے تو رکوع کریں، امام سمع الله لمن حمده کہے تو ربنا ولك الحمد کہیں، امام سجدہ کرے تو سجدہ کریں، اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو سب بیٹھ کر نماز پڑھیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع امام کی پیروی ہے۔ یہ نماز باجماعت کو ایک منظم عمل بناتی ہے۔ ہر شخص اپنی مرضی سے حرکت کرے تو جماعت کا نظم ٹوٹ جاتا ہے، اس لیے حدیث مقتدی کو امام کے ساتھ جڑ کر نماز پڑھنے کا ادب سکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • امام کی پیروی نماز باجماعت کا اصل اصول ہے۔
  • مقتدی امام سے پہلے رکوع یا سجدہ نہ کرے۔
  • بیٹھ کر نماز پڑھانے والے امام کے معاملے میں حدیث میں خاص ہدایت آئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں