صحیح بخاری حدیث ۷۳۵ - نماز میں رفع یدین کے مقامات
رفع یدین کی حدیث: کب ہاتھ اٹھائے جائیں؟
صحیح بخاری : ۷۳۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا ، كَذَلِكَ أَيْضًا ، وَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے، اسی طرح جب رکوع کے لیے «الله اكبر» کہتے اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو دونوں ہاتھ بھی اٹھاتے (رفع یدین کرتے) اور رکوع سے سر مبارک اٹھاتے ہوئے «سمع الله لمن حمده، ربنا ولك الحمد» کہتے تھے۔ سجدہ میں جاتے وقت رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۳۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے تھے۔ اسی طرح رکوع کے لیے الله اكبر کہتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی رفع یدین کرتے۔ رکوع سے اٹھتے ہوئے آپ سمع الله لمن حمده، ربنا ولك الحمد کہتے تھے۔ روایت میں یہ بھی صاف ہے کہ سجدہ میں جاتے وقت رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ اس حدیث کا اصل موضوع رفع یدین کی حدیث ہے، یعنی نماز کے اندر ہاتھ اٹھانے کے مقامات۔ اس میں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھانے، رکوع سے پہلے اور بعد میں اٹھانے، اور سجدہ میں نہ اٹھانے کی بات آئی ہے۔ بات کو اسی متن تک رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز شروع کرتے وقت ہاتھ کندھوں تک اٹھائے گئے۔
- رکوع جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین بیان ہوا ہے۔
- سجدہ میں جاتے وقت اس روایت میں رفع یدین نہیں آیا۔
