صحیح بخاری حدیث ۷۳۵۴ - ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا حفظ حدیث
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حفظ حدیث: چادر پھیلانے والا واقعہ
صحیح بخاری : ۷۳۵۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۵۴
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنَ الْأَعْرَجِ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : إِنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مِسْكِينًا أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي ، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ ، وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمُ الْقِيَامُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ ، فَشَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، وَقَالَ : " مَنْ يَبْسُطْ رِدَاءَهُ حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي ، ثُمَّ يَقْبِضْهُ فَلَنْ يَنْسَى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي ، فَبَسَطْتُ بُرْدَةً كَانَتْ عَلَيَّ ، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا نَسِيتُ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ " .
ابوہریرہ روایت:
تم سمجھتے ہو کہ ابوہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات زیادہ حدیث بیان کرتے ہیں، اللہ کے حضور میں سب کو جانا ہے۔ بات یہ تھی کہ میں ایک مسکین شخص تھا اور پیٹ بھرنے کے بعد ہر وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتا تھا لیکن مہاجرین کو بازار کے کاروبار مشغول رکھتے تھے اور انصار کو اپنے مالوں کی دیکھ بھال مصروف رکھتی تھی۔میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون اپنی چادر پھیلائے گا، یہاں تک کہ میں اپنی بات پوری کر لوں اور پھر وہ اپنی چادر سمیٹ لے اور اس کے بعد کبھی مجھ سے سنی ہوئی کوئی بات نہ بھولے۔ چنانچہ میں نے اپنی چادر جو میرے جسم پر تھی، پھیلا دی اور اس ذات کی قسم جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا تھا پھر کبھی میں آپ کی کوئی حدیث جو آپ سے سنی تھی، نہیں بھولا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۳۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے زیادہ حدیث بیان کرنے کی وجہ خود بتاتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں مسکین شخص تھا اور پیٹ بھرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتا تھا، جبکہ مہاجرین بازار کے کاروبار میں اور انصار اپنے مالوں کی دیکھ بھال میں مصروف رہتے تھے۔ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون اپنی چادر پھیلائے گا، پھر میری بات پوری ہونے کے بعد اسے سمیٹ لے گا، تو وہ میری بات نہ بھولے گا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر پھیلا دی اور پھر فرمایا کہ اس کے بعد میں نے آپ سے سنی ہوئی کوئی حدیث نہیں بھولی۔ یہ ‘حفظ حدیث’ اور ‘ابو ہریرہ حدیث’ کا اہم واقعہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- علم کے لیے وقت دینا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے واقعے میں نمایاں ہے۔
- صحابہ کے حالات مختلف تھے، اس لیے روایت کی مقدار بھی مختلف ہو سکتی تھی۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا اور برکت سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا حفظ مضبوط ہوا۔
- حدیث سننے اور یاد رکھنے میں شوق اور قربت کا بڑا دخل ہے۔
