صحیح بخاری حدیث ۷۳۵۳ - اجازت لینے کا ادب

اجازت لینے کا ادب: ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا واقعہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۵۳

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : " اسْتَأْذَنَ أَبُو مُوسَى عَلَى عُمَرَ فَكَأَنَّهُ وَجَدَهُ مَشْغُولًا ، فَرَجَعَ ، فَقَال عُمَرُ : أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ائْذَنُوا لَهُ فَدُعِيَ لَهُ ، فَقَالَ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ، فَقَالَ : إِنَّا كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا ، قَالَ : فَأْتِنِي عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ أَوْ لَأَفْعَلَنَّ بِكَ ، فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالُوا : لَا يَشْهَدُ إِلَّا أَصَاغِرُنَا فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، فَقَالَ : قَدْ كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا ، فَقَالَ عُمَرُ : خَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ " .

عبید بن عمیر روایت:

ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے (ملنے کی) اجازت چاہی اور یہ دیکھ کر کہ عمر رضی اللہ عنہ مشغول ہیں آپ جلدی سے واپس چلے گئے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا میں نے ابھی عبداللہ بن قیس (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) کی آواز نہیں سنی تھی؟ انہیں بلا لو۔ چنانچہ انہیں بلایا گیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ایسا کیوں کیا؟ (جلدی واپس ہو گئے) انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث میں اس کا حکم دیا گیا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس حدیث پر کوئی گواہ لاؤ، ورنہ میں تمہارے ساتھ یہ (سختی) کروں گا۔چنانچہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ انصار کی ایک مجلس میں گئے انہوں نے کہا کہ اس کی گواہی ہم میں سب سے چھوٹا دے سکتا ہے۔ چنانچہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ ہمیں دربار نبوی سے اس کا حکم دیا جاتا تھا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مجھے معلوم نہیں تھا، مجھے بازار کے کاموں خرید و فروخت نے اس حدیث سے غافل رکھا۔

صحیح بخاری حدیث ۷۳۵۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے اجازت چاہی۔ جب انہیں لگا کہ عمر رضی اللہ عنہ مشغول ہیں تو وہ واپس چلے گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بلایا اور پوچھا کہ ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس کا حکم دیا گیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث پر گواہ طلب کیا۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ انصار کی مجلس میں گئے، پھر ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ حکم دیا جاتا تھا۔ یہ حدیث ‘اجازت لینے کی حدیث’، ‘استئذان کا ادب’ اور ‘حدیث کی تحقیق’ تینوں پہلو دکھاتی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے آخر میں کہا کہ بازار کے کام نے مجھے اس حکم سے غافل رکھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کسی کے مشغول ہونے پر واپس چلے جانا ادب میں شامل ہے۔
  • حدیث بیان کرتے وقت ثبوت اور گواہی کی اہمیت سامنے آتی ہے۔
  • بڑے صحابی کو بھی کوئی حدیث معلوم نہ ہو سکتی تھی۔
  • دنیاوی مصروفیت کبھی دینی علم سے غفلت کا سبب بن سکتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں