صحیح بخاری حدیث ۷۳۵۲ - اجتہاد میں درست اور غلط فیصلہ

اجتہاد کی حدیث: صحیح فیصلہ ہو تو دو اجر، غلطی ہو تو ایک اجر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۵۲

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ، ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ، ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ " ، قَالَ : فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، فَقَالَ : هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .

عمرو بن العاص روایت:

´ہم سے عبداللہ بن یزید مقری مکی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا، انہوں نے مجھ سے یزید بن عبداللہ بن الہاد نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم بن الحارث نے، ان سے بسر بن سعید نے، ان سے عمرو بن العاص کے مولیٰ ابو قیس نے، ان سے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حاکم کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہو تو اسے دہرا ثواب ملتا ہے اور جب کسی فیصلہ میں اجتہاد کرے اور غلطی کر جائے تو اسے اکہرا ثواب ملتا ہے (اجتہاد کا) بیان کیا کہ پھر میں نے یہ حدیث ابوبکر بن عمرو بن حزم سے بیان کی تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اسی طرح بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ اور عبدالعزیز بن المطلب نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی بکر نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح بیان فرمایا۔

صحیح بخاری حدیث ۷۳۵۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کرنے والے حاکم کے اجتہاد کا حکم بتایا۔ اگر حاکم اجتہاد کرے اور فیصلہ صحیح ہو جائے تو اسے دو اجر ملتے ہیں۔ اگر وہ اجتہاد کرے مگر غلطی ہو جائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے۔ یہاں اصل بات ‘اجتہاد’ ہے، یعنی فیصلہ بغیر کوشش کے نہیں، بلکہ سوچ سمجھ کر کیا جائے۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ ہر غلط فیصلہ درست ہے؛ بلکہ متن میں اجتہاد کی شرط موجود ہے۔ اس لیے ‘اجتہاد کی حدیث’ کو سمجھتے وقت حاکم، فیصلہ، کوشش اور خطا کے الفاظ پر دھیان ضروری ہے۔ حدیث انصاف کے معاملے میں سنجیدگی اور ذمہ داری کا مزاج دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فیصلہ کرنے والے کے لیے اجتہاد اور کوشش ضروری ہے۔
  • صحیح اجتہادی فیصلہ دو اجر کا سبب بتایا گیا۔
  • اجتہاد کے بعد غلطی ہو جائے تو ایک اجر کا ذکر آیا ہے۔
  • یہ حکم بغیر علم یا بغیر کوشش کے فیصلے کے لیے نہیں بتایا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں