صحیح بخاری حدیث ۷۳۵۱ - برابر بدلے کی خرید و فروخت

برابر بدلے کی خرید و فروخت: کھجور اور ناپ تول کا حکم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۵۱

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَأَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيَّ وَاسْتَعْمَلَهُ عَلَى خَيْبَرَ ، فَقَدِمَ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ؟ ، قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَنَشْتَرِي الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ مِنَ الْجَمْعِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَفْعَلُوا وَلَكِنْ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، أَوْ بِيعُوا هَذَا ، وَاشْتَرُوا بِثَمَنِهِ مِنْ هَذَا ، وَكَذَلِكَ الْمِيزَانُ " .

ابو سعید خدری اور ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عدی الانصاری کے ایک صاحب سودا بن عزیہ کو خیبر کا عامل بنا کر بھیجا تو وہ عمدہ قسم کی کھجور وصول کر کے لائے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! ہم ایسی ایک صاع کھجور دو صاع (خراب) کھجور کے بدلے خرید لیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کیا کرو بلکہ (جنس کو جنس کے بدلے) برابر برابر میں خریدو، یا یوں کرو کہ ردی کھجور نقدی بیچ ڈالو پھر یہ کھجور اس کے بدلے خرید لو، اسی طرح ہر چیز کو جو تول کر بکتی ہے اس کا حکم ان ہی چیزوں کا ہے جو ناپ کر بکتی ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۷۳۵۱ کا خلاصہ

یہ حدیث اسی اصول کو بیان کرتی ہے کہ ایک ہی جنس کی چیز کو زیادہ کم مقدار کے بدلے لینا درست نہیں بتایا گیا۔ خیبر کے عامل عمدہ کھجور لے کر آئے تو معلوم ہوا کہ ایک صاع عمدہ کھجور دو صاع عام کھجور کے بدلے لی جاتی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریقے سے منع فرمایا اور بتایا کہ یا تو برابر برابر تبادلہ ہو، یا کم درجے کی کھجور کو الگ سے بیچ کر اس کی قیمت سے عمدہ کھجور خریدی جائے۔ ‘ربا سے بچنے کی حدیث’ کے طور پر یہ روایت بہت اہم ہے۔ اس میں اصل بات یہ ہے کہ ناپ تول، قیمت اور جنس کے معاملے میں راست طریقہ اختیار کیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایک جنس کے تبادلے میں مقدار برابر رکھنے کا حکم بیان ہوا۔
  • بہتر چیز خریدنے کے لیے پہلے اپنی چیز نقدی میں بیچنے کا طریقہ بتایا گیا۔
  • معاملات میں چھوٹی سی بے احتیاطی بھی درست طریقے سے بدلنی چاہیے۔
  • حدیث میں ناپ اور وزن دونوں کے لیے اصول بیان کیا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں