صحیح بخاری حدیث ۷۳۵۰ - کھجور کی خرید و فروخت کا اصول
کھجور کی خرید و فروخت: ربا سے بچنے کا آسان اصول
صحیح بخاری : ۷۳۵۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۵۰
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَأَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيَّ وَاسْتَعْمَلَهُ عَلَى خَيْبَرَ ، فَقَدِمَ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ؟ ، قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَنَشْتَرِي الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ مِنَ الْجَمْعِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَفْعَلُوا وَلَكِنْ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، أَوْ بِيعُوا هَذَا ، وَاشْتَرُوا بِثَمَنِهِ مِنْ هَذَا ، وَكَذَلِكَ الْمِيزَانُ " .
ابو سعید خدری اور ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عدی الانصاری کے ایک صاحب سودا بن عزیہ کو خیبر کا عامل بنا کر بھیجا تو وہ عمدہ قسم کی کھجور وصول کر کے لائے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! ہم ایسی ایک صاع کھجور دو صاع (خراب) کھجور کے بدلے خرید لیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کیا کرو بلکہ (جنس کو جنس کے بدلے) برابر برابر میں خریدو، یا یوں کرو کہ ردی کھجور نقدی بیچ ڈالو پھر یہ کھجور اس کے بدلے خرید لو، اسی طرح ہر چیز کو جو تول کر بکتی ہے اس کا حکم ان ہی چیزوں کا ہے جو ناپ کر بکتی ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۷۳۵۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں خیبر سے عمدہ کھجور لانے کا واقعہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا خیبر کی سب کھجوریں ایسی ہی ہیں؟ جواب ملا کہ نہیں، ہم ایک صاع عمدہ کھجور دو صاع کم درجے کی کھجور کے بدلے لیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو، بلکہ مثل کے بدلے مثل خریدو، یا پہلے کم درجے کی کھجور نقدی میں بیچ دو، پھر اس رقم سے عمدہ کھجور خرید لو۔ یہ حدیث ‘ربا کی حدیث’، ‘کھجور کی بیع’ اور ‘ناپ تول میں برابری’ کے بارے میں واضح اصول دیتی ہے۔ متن کے مطابق یہی حکم وزن سے بکنے والی چیزوں میں بھی بیان کیا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی جنس کی چیز کا تبادلہ ہو تو برابری کا خیال رکھا جائے۔
- کم درجے کی چیز بیچ کر اس کی قیمت سے عمدہ چیز خریدنا الگ طریقہ ہے۔
- ناپ کر بکنے والی چیزوں کی طرح وزن والی چیزوں میں بھی احتیاط بیان ہوئی۔
- خرید و فروخت میں شرعی طریقہ پوچھنا اور سمجھنا ضروری ہے۔
