صحیح بخاری حدیث ۷۳۶۱ - اہل کتاب کی روایات میں احتیاط

اہل کتاب کی روایات: کعب احبار کے بارے میں احتیاط

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۶۱

وَقَالَ أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يُحَدِّثُ رَهْطًا مِنْ قُرَيْشٍ بِالْمَدِينَةِ وَذَكَرَ كَعْبَ الْأَحْبَارِ ، فَقَالَ : إِنْ كَانَ مِنْ أَصْدَقِ هَؤُلَاءِ الْمُحَدِّثِينَ الَّذِينَ يُحَدِّثُونَ عَنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَإِنْ كُنَّا مَعَ ذَلِكَ لَنَبْلُو عَلَيْهِ الْكَذِبَ .

معاویہ روایت:

وہ مدینے میں قریش کی ایک جماعت سے حدیث بیان کر رہے تھے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار کا ذکر کیا اور فرمایا جتنے لوگ اہل کتاب سے احادیث نقل کرتے ہیں ان سب میں کعب احبار بہت سچے تھے اور باوجود اس کے کبھی کبھی ان کی بات جھوٹ نکلتی تھی، یہ مطلب نہیں ہے کہ کعب احبار جھوٹ بولتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۳۶۱ کا خلاصہ

اس روایت میں معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں قریش کی ایک جماعت سے بات کر رہے تھے۔ انہوں نے کعب احبار کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اہل کتاب سے باتیں نقل کرنے والوں میں کعب احبار بہت سچے لوگوں میں سے تھے، لیکن اس کے باوجود کبھی کبھی ان کی بات غلط نکلتی تھی۔ ترجمے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کعب احبار جھوٹ بولتے تھے۔ اس روایت کا موضوع ‘اہل کتاب کی روایات’ اور ‘نقل میں احتیاط’ ہے۔ یہاں اصل سبق یہ ہے کہ کسی شخص کی سچائی ماننے کے باوجود اس کے نقل کردہ مواد کو پرکھا جا سکتا ہے، خاص طور پر جب وہ اہل کتاب کی خبروں سے متعلق ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اہل کتاب سے نقل ہونے والی باتوں میں احتیاط کا پہلو موجود ہے۔
  • کسی شخص کی سچائی کے باوجود اس کی نقل میں خطا ہو سکتی ہے۔
  • معاویہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار کو سچوں میں شمار کیا۔
  • غلط نکلنے والی بات کو لازماً جان بوجھ کر جھوٹ نہیں کہا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں