صحیح بخاری حدیث ۷۳۶۲ - اہل کتاب کی بات پر نہ تصدیق نہ تکذیب
اہل کتاب کی بات: نہ فوراً مانو، نہ فوراً جھٹلاؤ
صحیح بخاری : ۷۳۶۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۶۲
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ بِالْعِبْرَانِيَّةِ وَيُفَسِّرُونَهَا بِالْعَرَبِيَّةِ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ وَقُولُوا : آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ .
ابوہریرہ روایت:
اہل کتاب توریت عبرانی زبان میں پڑھتے تھے اور اس کی تفسیر مسلمانوں کے لیے عربی میں کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ ان کی تکذیب کرو کیونکہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہم پر نازل ہوا اور جو ہم سے پہلے تم پر نازل ہوا آخر آیت تک جو سورۃ البقرہ میں ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۳۶۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہل کتاب تورات کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور مسلمانوں کے لیے عربی میں اس کی تفسیر کرتے تھے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تکذیب کرو، بلکہ کہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر بھی جو ہم پر نازل ہوا اور جو تم پر نازل ہوا۔ اس حدیث کا موضوع ‘اہل کتاب کی بات’، ‘اسرائیلی روایات’ اور ‘دینی احتیاط’ ہے۔ متن کا سادہ پیغام یہ ہے کہ ایسی خبر جس کی حقیقت ہمارے پاس واضح نہ ہو، اس پر جلدی فیصلہ نہ کیا جائے۔ ایمان کا محفوظ جملہ وہی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اہل کتاب کی غیر واضح بات پر فوری تصدیق یا تکذیب سے روکا گیا۔
- ایمان کا جملہ قرآن کی آیت کے مطابق کہنے کی ہدایت ہوئی۔
- زبان اور ترجمے کے فرق کی وجہ سے احتیاط ضروری ہو سکتی ہے۔
- دینی خبر میں جلدی فیصلہ کرنے کے بجائے محفوظ طریقہ اختیار کیا جائے۔
