صحیح بخاری حدیث ۴۴۸۵ - اہل کتاب کی بات پر محتاط ایمان

اہل کتاب کی حدیث: تصدیق اور تکذیب میں احتیاط

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۸۵

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ بِالْعِبْرَانِيَّةِ ، وَيُفَسِّرُونَهَا بِالْعَرَبِيَّةِ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ وَقُولُوا : آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا سورة البقرة آية 136 " الْآيَةَ .

ابوہریرہ روایت:

اہل کتاب (یہودی) توراۃ کو خود عبرانی زبان میں پڑھتے ہیں لیکن مسلمانوں کے لیے اس کی تفسیر عربی میں کرتے ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تم تکذیب کرو بلکہ یہ کہا کرو «آمنا بالله وما أنزل إلينا» یعنی ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس چیز پر جو ہماری طرف نازل کی گئی ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۴۴۸۵ کا خلاصہ

یہ حدیث اہل کتاب کی بات کے بارے میں ایک صاف اور محتاط طریقہ بتاتی ہے۔ روایت میں آیا ہے کہ یہودی تورات کو عبرانی میں پڑھتے تھے اور مسلمانوں کے لیے اس کی تفسیر عربی میں کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو سکھایا کہ ایسی باتوں پر جلدی فیصلہ نہ کرو۔ نہ فوراً کہو کہ سب درست ہے، اور نہ فوراً کہو کہ سب غلط ہے۔ درست جواب یہ ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس چیز پر بھی ایمان لائے جو ہماری طرف نازل کی گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کا اصل سہارا وحی ہے۔ اہل کتاب کی حدیث، تورات کی تفسیر، اور ایمان باللہ جیسے موضوعات میں زبان نرم، ایمان مضبوط، اور فیصلہ محتاط ہونا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اہل کتاب کی خبر سن کر جلد بازی میں فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔
  • ایمان کا اصل مرکز اللہ اور اس کی نازل کردہ وحی ہے۔
  • نامعلوم دینی بات میں احتیاط بہتر ہے۔
  • مسلمان کو اپنے عقیدے کا جواب صاف الفاظ میں دینا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں