صحیح بخاری حدیث ۷۳۶۸ - مغرب سے پہلے نفل نماز
مغرب سے پہلے نفل نماز پڑھنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۳۶۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۶۸
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ الْحُسَيْنِ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَلُّوا قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ ، قَالَ : فِي الثَّالِثَةِ لِمَنْ شَاءَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةً " .
عبداللہ بن مغفل مزنی روایت:
´ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے حسین بن ذکوان معلم نے، ان سے عبیداللہ بن بریدہ نے، کہا مجھ سے عبداللہ بن مغفل مزنی نے بیان کیا` اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مغرب کی نماز سے پہلے بھی نماز پڑھو اور تیسری مرتبہ میں فرمایا کہ جس کا جی چاہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند نہیں کرتے تھے کہ اسے لوگ لازمی سنت بنا لیں۔
صحیح بخاری حدیث ۷۳۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مغرب کی نماز سے پہلے بھی نماز پڑھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات دہرائی، پھر تیسری مرتبہ فرمایا کہ جس کا جی چاہے۔ حدیث کے آخر میں وجہ بھی بیان ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ لوگ اسے لازمی سنت بنا لیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مغرب سے پہلے نفل نماز پڑھنا جائز ہے، مگر اسے ہر شخص پر لازم سمجھنا درست نہیں۔ عام فہم بات یہ ہے کہ عبادت میں نرمی بھی دین کا حصہ ہے۔ جو شخص پڑھنا چاہے پڑھ لے، اور جو نہ پڑھ سکے وہ اس حدیث کی بنیاد پر اسے فرض یا لازمی سنت نہ سمجھے۔ اس حدیث میں نفل نماز، مغرب سے پہلے دو رکعت، اور عبادت میں آسانی کا واضح پیغام ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مغرب سے پہلے نفل نماز پڑھنے کی اجازت حدیث میں موجود ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہر شخص کے لیے لازم قرار نہیں دیا۔
- عبادت میں ایسی بات کو لازم نہ بنایا جائے جسے حدیث نے اختیاری رکھا ہو۔
- دین میں آسانی اور اعتدال کا خیال رکھا گیا ہے۔
